خطبات محمود (جلد 6) — Page 179
144 میں جم جاتے، کوئی ایسا تعویذ ہو جس سے سب مشکلات اور مصائب دُور ہو جائیں۔وہ کوشش کرنے کو بناوٹ اور سعی کو دھوکہ اور محنت کو وہم خیال کرتے ہیں۔ان کے نزدیک اگر کسی بات میں حقیقت ہے تو وہ منتر میں ہے، کیونکہ اس سے ان کے خیال میں بغیر کوشش اور جدوجہد کے دشمن زیر ہو جاتا ہے اور ہر ایک مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ منتروں کا اثر لوگوں کے نزدیک بہت بڑا اثر ہے۔یورپ کے لوگ جنہوں نے اس قسم کی آزادی حاصل کر لی ہے کہ اپنے خدا کے بھی قاتل نہیں رہے۔انھوں نے مسیح کی پیروی سے اپنے آپ کو آزاد کر لیا ہے۔گرجے کی حکومت کے جوتے کو پرے پھینک دیا ہے مگر ٹونے اور منتروں سے آزاد نہیں ہو سکے۔یورپ نے خدا سے انکار کیا۔خداکے رسولوں کو چھوڑ دیا۔خدا کے رسولوں کی تب سے روگرداں ہوا۔لیکن اگر نہیں آزاد ہوا۔تو منتروں کی حکومت سے آزاد نہیں ہوا۔چنانچہ اسی جنگ کے دوران میں جو مختلف جرنیلوں کی رپور میں شائع ہوتی ہیں۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جولوگ مارے گئے ان میں سے اکثر اشخاص کے بازوؤں پر تعویذ بندھے ہوتے تھے۔گویا خدا کے منکر رسولوں کے منکر یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ تعویذ کے ذریعہ موت سے بچ جائیں گے۔تو ان باتوں کا اب بھی ایسا گہرا اثر ہے کہ علوم کی ترقی بھی اس کو مٹا نہیں سکتی۔میں نے ابھی پچھلے دنوں ہائیوں کی ایک کتاب پڑھی ہے۔اس میں لکھا ہے کہ امریکہ میں اس مذہب کی اشاعت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں داخل ہونے والوں کو ایک خفیہ نام دیا جاتا ہے اور اس کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ نام بہت پراسرار اور بڑا اثر والا ہوتا ہے اس کتاب کا مصنف لکھتا ہے کہ میرے جی میں بھی آتا ہے کہ اس نام کے لیے بہائی ہو جاؤں ، لیکن میں چونکہ در حقیقت اس مذہب کو سچا نہیں جانتا۔اس لیے منافقت سے داخل ہونے کو پسند نہیں کرتا۔ہائیوں میں رواج ہے کہ جب کوئی ان میں داخل ہو تو وہ اس کو ایک نام دیتے ہیں۔اور وہ عربی زبان کا کوئی لفظ ہوتا ہے۔مثلاً جو شخص اچھا لکھنے والا ہوا اس کو سلطان القلم نام دید یا چونکہ وہ لوگ عربی میں جانتے اس لیے خیال کرتے ہیں کہ کوئی خاص اثر رکنے والا یہ نام ہے اس کے ذریعہ ہم تمام آفات سے بچ جائیں گے۔اسلام نے ان تو ہمات کو مٹایا ہے اور اس قسم کے خیالات کی تردید کی ہے، لیکن اصل حقیقت کو برقرار اور قائم کر دیا ہے اور اسلام کی یہی خوبی ہے کہ ہر بات میں وسطی طریق اختیار کرتا ہے جھوٹی باتوں کو رد کر دیتا ہے اور پیتی کو برقرار رکھتا ہے۔جہاں تک بنانا مفید ہوتا ہے بناتا ہے۔اور جتنا مٹانا ہو تا ہے اس کو مٹا دیتا ہے۔تو اسلام نے بھی ایک جادو اور تعویذ بتایا ہے، لیکن اس میں