خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 178

١٤٨ 35 if مصائب بیچنے کا طریق ) فرموده ۲۱ار مارچ ۹۱۹انه ) سم حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ اور سورۃ فلق کی تلاوت کے بعد فرمایا :- ہر ایک ملک میں خواہ وہ تعلیم یافتہ لوگوں کا ہو یا جہاد کا۔ اور اس میں کسی مذہب کے لوگ آباد ہوں عیسائی ہوں ۔ یا یہودی مسلمان ہوں یا سکھ ، زرتشتی ہوں ۔ یا اور کسی مذہب کے یہ رواج چلا آتا ہے ۔ یا یوں کہو کہ ان میں یہ خواہش چلی آتی ہے کہ ان لوگوں کو ایسے ذرائع مل جائیں جن سے وہ بغیر کسی ظاہری کوشش کے مصائب سے بچ جائیں۔ پرانے زمانہ میں جادو کا رواج تھا آج تک اس کا اثر چلا آتا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ آج جبکہ تعلیم اس قدر پھیل گئی ہے اور لوگ عام طور پر ہم قسم کے اوہام سے بچ گئے ہیں۔ پھر بھی جادو کا خیال موجود ہے ۔ اس کی ہر دلعزیزی اور اثر اندازی کا اس سے پتہ لگتا ہے کہ آج جبکہ علوم کے پانیوں نے لوگوں کے سینوں کو دھو دیا ہے پھر بھی اس کا اثر باقی ہے بلکہ سینوں کے اندر گرے طور پر موجود ہے ۔ جب ہم تاریخ کی ورق گردانی کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ پہلے بڑے بڑے اہم امور کا دارو مدار انہی باتوں ۔ دارو مدار انہی باتوں پر ہوتا تھا۔ بادشاہ کو اپنی فوج پراتنا و توق نہ تھی جتنا کہ کاہن کے منتروں پر جرنیلوں کو اپنی تد بیر و قوت بازو پر اتنا بھروسہ نہ تھا، جتنا کہ بازو پر کے ہوتے تعویذ پر ۔ اسی طرح مریض کو طبیب کے بنائے ہوئے نسخہ پر اتنا یقین نہ تھا۔ جتنا ایک پڑھے ہوئے دانہ پر ہوتا تھا۔ عورت کو فرمانبرداری خوش اخلاقی اور خاوند کی خدمتگذاری سے خاوند کو اپنی طرف مائل کر لینے کی اتنی امید نہ ہوتی تھی جتنی بھوج پتر پر لکھے ہوئے چند بے معنی الفاظ یا لکیروں پر ۔ پر غرض جادو اور ٹونے کو زندگی کے ہر ایک صیغہ میں بہت دخل تھا۔ بادشاہوں کی حکومت میں اس کو دخل تھا۔ امور خانہ داری میں اس کا دخل تھا۔ عورت و مرد کے تعلقات میں اس کا دخل تھا۔ دوستوں کی دوستی میں اس کا دخل تھا اور آج بھی حقیقت سے ناواقف لوگ سب سے پہلے ہی سوال کرتے ہیں کہ کوئی ایسا منتر بتایا جائے جس سے دشمن زیر ہو جائے۔ کوئی ایسا منتر ہو جس سے محبت کا سکہ خاوند کے دل