خطبات محمود (جلد 6) — Page 176
1८५ طرح دین کی باتوں پر نہی کی تھی اس لیے حضرت شاہ صاحب نے اسے مناسب موقعہ پر یہ جواب دیا ۔ کہ کیا کوئی شخص پاخانہ میں بھی سوتا ہے ہوتا وہیں ہے جہاں روح کو آرام پہنچتا ہو۔ یہ جواب موقعہ کے لحاظ سے درست تھا، لیکن حق یہی ہے کہ وعظ میں وہی لوگ ہوتے ہیں جن پر غفلت طاری ہوتی ہے ۔ اور جن کی توجہ وعظ کی طرف نہیں ہوتی۔ صاحب مشہور ہے کہ بادا نانک صاحب ایک ملا کے پیچھے نماز پڑھنے کھڑے ہوتے کہ اتنے میں با وا صاحب نے نیست توڑ دی اور الگ گوشہ میں ا کر نما نہ پڑھ لی جب جماعت ہو چکی تو ملا صاح ہوچکی تو ملا ناراض ہوتے کہ تم نے ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھی با و صاحب نے کہا کہ آپ نماز میں کبھی کہیں جا۔ جاتے تھے کبھی کہیں کبھی آ کہیں کبھی آپ پشاور میں جاتے تھے اور میں جاتے تھے کبھی کابل میں کبھی آپ دلی میں جاتے تھے کبھی اور جگہ چونکہ مجھ میں اتنی طاقت سفر نہ تھی اس لیے میں نے نیست توڑ کر الگ نماز پڑھ لی۔ تو ملا صاحب اگر چہ نماز ماز رها رہے تھے مگر ان کے خیالات کہیں کہیں بھٹک رہے تھے۔ اس لیے ان کی نماز حضور قلب سے نہ تھی ۔ بعض لوگ مجلس وعظ میں بیٹھے ہوتے دُور دُور کی خبریں لاتے ہیں، لیکن جو کچھ ان کے سامنے ہو رہا ہوتا ہے اس سے غافل ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ سنتے بھی ہیں، مگر سمجھنے اور فائدہ اٹھانے کے لیے نہیں۔ بلکہ اس لیے کہ دیکھیں خطیب کہاں کہاں غلطی کرتا ہے ۔ ان کی نظر الفاظ کی غلطی اور مسلم کم پر ہوتی ہے حرکات پر پر ہوتی ہوتی ہے ہے مطال مطالب اور معانی اور مسائل ان کو مد نظر نہیں ہوتے۔ ایک دفعہ ایک شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کے پاس لکھنو سے آیا اور حضور سے گفتگو کرتا رہا۔ آخر میں کہنے لگا کہ آپ کیا مسیح موعود ہونگے ۔ آپ قرآن کا ثقافت تو ادا نہیں کر سکتے ۔ حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب (شہید) حضور کے پاؤں دبا رہے تھے۔ انھوں نے اس شخص کے منہ پر تھیٹر مارنا چاہا مگر حضرت اقدس نے ہاتھ پکڑ لیا ۔ تو بعض لوگ وعظ سنتے ہیں۔ مگر اس نیت سے کہ دیکھیں واعظہ کہاں کہاں غلطی کرتا ہے ۔ محاسن پر ان کی نظر جاتی ہی نہیں۔ پیس مومن کا یہ فرض ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی بات کو بھی توجہ سے سنے اور جو قابل عمل ہو اور اعلیٰ درجہ کی ہو۔ اس پر عمل کرے ۔ آپ لوگ چاہتے تو ہیں کہ پکے مومن ہو جائیں ۔ خدا تعالیٰ کے عاشق بن جائیں ۔ مگر پھلانگ کر اس منزل کو طے کرنا چاہتے ہیں ۔ حالانکہ حالانکہ زینہ زینہ ترقی حاصل ہو سکتی ہے ۔ یہ نہیں کہ ہم نے ایک بات کرلی ہے ۔ ہے۔ وہ ہماری بکات کی نجات کیلئے کافی ہے ۔ عاشق کا تو قاعدہ ہے کہ وہ دوست دوست کے رستہ میں جسقدار دو تین مصیبتیں آئیں آتی ہیں۔ ان کو نہایت شوق و ذوق سے جھیلتا ہے۔ جو اللہ کی طرف سے