خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 174

۱۴ البشری - وہ لوگ جو ایسی خبیث ہستیوں سے جن میں سرکشی کا مادہ ہو اجتناب کریں یعنی جو ان کی طرف متوجہ نہ ہوں ، بلکہ ان کو چھوڑ کر خدا کی طرف توجہ کریں اور اسی کی طرف جھک جائیں ۔ ایسے لوگوں کے لیے بشارت ہے ۔ بشارت کے معنی ایسی عظیم الشان خبر کے ہیں جس سے چہرہ کا رنگ متغیر ہو جائے خواہ وہ اچھی ہویا بری اگر بری ہو تو چہرہ کا رنگ اڑ جاتا ہے جیسا کہ کوئی حادثہ ہوئی کے مال پر جان پر عزت پر آفت آجاتے یا لڑائی فتنہ کی خبر ہو اس سے اس کا رنگ اُڑ جاتا ہے ۔ ایسی خبرکو بھی بشارت کہتے ہیں۔ صرف قرائن سے پتہ لگ سکتا ہے کہ اب یہ لفظ اچھے معنوں میں استعمال ہوا ہے یا برے معنوں میں ۔ 6 اور اسی طرح اچھے معنوں میں اگر استعمال ہو تو اس وقت اس کا یہ اثر ہوتا ہے کہ چہرہ پر خون پیدا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ حسین شخص کو کوئی خوشی کی خبر معلوم ہو اس کاچہرہ تمتما اٹھتا ہے اور سرخ ہو جاتا ہے توفرمایا کہ جو لوگ ایسی خبیث روحوں کی پیروی نہیں کرتے اور اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں لھم البشري ان کے لیے بشارت ہے یعنی ان کے لیے خوشخبری ہے ۔ ان کے لیے یہ ایسی خبر ہے کہ خوشی سے ان کے چہرے چمک اُٹھنے اور مرخ ہو جانے چاہتیں ۔ پھر فرمایا فبشر عباد بشارت دے میرے ان بندوں کو اللذين يستمعون القول جوبات کو سنتے ہیں خواہ وہ بات اچھی ہو یا بری اس کو سن لیتے ہیں لیکن ہر ایک بات کے پیچھے نہیں لگ جاتے بلکہ فیتبعون احسنه اتباع کرتے ہیں اچھی بات کی ۔ وہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے اور وہی ہیں جو عقلمند ہیں اور دانا کہلانے کے مستحق ہیں۔ اس سے بتایا کہ اگر خوشخبری سنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ اپنے آپکو الیانا ك يستمعون القول باتوں کو سنو اور جو ان میں سے بہتر ہوں ان کو قبول کرو۔ انسان کو روزانہ کچھ باتیں ہوی سے سننا پڑتی ہیں کچھ بچے ہیں کچھ بچوں سے۔ کچھ دوستوں سے کچھ دشمنوں سے کچھ جا حاکموں سے کچھ معاملہ سے غرض بے شمار باتیں سننا پڑتی ہیں مگر یہ نہیں کہ ہر ایک بات جو کان میں پڑتی ہے۔ ہی ۔ کی پیروی کرتا ہے ۔ نہیں بلکہ مومن انسان ان میں سے جو باتیں خدا کے رستے سے روکنے والی اور اس کی رضا کے خلاف ہوتی ہیں۔ ان کو رد کر دیتا ہے اور جو اللی منشاء کے مطابق اور رضامندی کا محوب ہوتی ہیں۔ ان کو اختیار کر لیتا ہے ۔ اہل آپ لوگ یہاں بیرو نجات سے اپنی اپنی جماعتوں کے قائم مقام ہو کر آئے ہیں اور آپ کے آنے کی غرض یہ ہے کہ امور دینیہ کے متعلق ہدایات نہیں ۔ اور اپنی ان ذمہ داریوں کو سوچیں جو آپ پر