خطبات محمود (جلد 6) — Page 174
16M البشری - وہ لوگ جو ایسی خبیث ہستیوں سے جن میں سرکشی کا مادہ ہو اجتناب کریں۔یعنی جو ان کی طرف متوجہ نہ ہوں۔بنکہ ان کو چھوڑ کر خدا کی طرف توجہ کریں اور اسی کی طرف جھک جائیں۔ایسے لوگوں کے لیے بشارت ہے۔بشارت کے معنی ایسی عظیم الشان خبر کے ہیں میں سے چہرہ کا رنگ متغیر ہو جائے خواہ وہ اچھی ہو یا بری - اگر بری ہو تو چہرہ کا رنگ اڑ جاتا ہے، جیسا کہ کوئی حادثہ ہو کسی کے مال پر جان پر عزت پر آفت آجاتے۔یا لڑائی فتنہ کی خبر ہو اس سے اس کا رنگ اُڑ جاتا ہے۔ایسی خبر کو بھی بشارت کہتے ہیں۔صرف قرائن سے پتہ لگ سکتا ہے کہ اب یہ لفظ اچھے معنوں میں استعمال ہوا ہے یا بُرے معنوں میں۔اور اسی طرح اچھے معنوں میں اگر استعمال ہو تو اس وقت اس کا یہ اثر ہوتا ہے کہ چہرہ پر خون پیدا ہو جاتا ہے۔چنانچہ حسین بی شخص کو کوئی خوشی کی خبرمعلوم ہوا کا چہرہ تمتما اٹھتا ہے اور سرخ ہو جاتا ہے توفرمایا کہ جولوگ ایسی خبیث روحوں کی پیروی نہیں کرتے اور اللہ کی طرف جھک جاتے ہیں نعم البشرى ان کے لیے بشارت ہے یعنی ان کے لیے خوشخبری ہے۔ان کے لیے یہ ایسی خبر ہے کہ خوشی سے ان کے چرے چمک اُٹھنے اور سُرخ ہو جانے چاہئیں۔پھر فرمایا فبشر عباد بشارت دے میرے ان بندوں کو الذين يستمعون القول جو بات کو سنتے ہیں خواہ وہ بات اچھی ہو یا بری اس کو سُن لیتے ہیں لیکن ہر ایک بات کے پیچھے نہیں لگ جاتے بلكه فيتبعون احسنه اتباع کرتے ہیں اچھی بات کی۔وہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے اور وہی ہیں جو عقلمند ہیں اور دانا کھلانے کے مستحق ہیں۔اس سے بتا یا کہ اگر خوشخبری سنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ اپنے آپ کو ایسا بنا کہ يستمعون القول باتوں کو سو اور جو ان میں سے بہتر ہوں ان کو قبول کرو۔انسان کو روزانہ کچھ باتیں بیوی سے سننا پڑتی ہیں کچھ بچوں سے کچھ دوستوں سے کچھ دشمنوں سے۔کچھ حاکموں سے کچھ اہل معاملہ سے غرض بے شمار باتیں سننا پڑتی ہیں۔مگر یہ نہیں کہ ہر ایک بات جو کان میں پڑتی ہے۔اسی۔کی پیروی کرتا ہے۔نہیں ملکہ مومن انسان ان میں سے جو باتیں خدا کے رستہ سے روکنے والی اور اس کی رضا کے خلاف ہوتی ہیں۔ان کو رد کر دیتا ہے اور جو الہی منشاء کے مطابق اور رضامندی کا خوب ہوتی ہیں۔ان کو اختیا ر کرلیتا ہے۔آپ لوگ یہاں بیرو نجات سے اپنی اپنی جماعتوں کے قائم مقام ہو کر آتے ہیں اور آپ کے آنے کی غرض یہ ہے کہ امور دینیہ کے متعلق ہدایات نہیں۔اور اپنی ان ذمہ داریوں کو سوچیں جو آپ پر