خطبات محمود (جلد 6) — Page 16
آتا ہے اور آقا کے لیے ضروری نہیں ہوتا کہ نوکر کو ہر ایک کام کے متعلق کیے۔ تب وہ کرے ورنہ نہ کرے اکثر اوقات آقا کی خموشی ہی حکم ہوتا ہے۔ تو استخارہ کے لیے کسی خواب یا الہام کے آنے کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن کئی لوگ اس کو ضروری سمجھتے ہیں۔ اور خواہش رکھتے ہیں کہ انھیں خواہیں آئیں ۔ حالانکہ ایسی خواہیں جو خواہش پر آئیں کسی مصرف کی نہیں ہوتیں۔ دیکھو اگر ایک شخص اپنے دوست کی ملاقات کے لیئے جائیں گا تو اس کا دوست مقدور بھر اسے اچھی خوراک کھلا ئیگا اور اس کی خاطر تواضع کر دیا لیکن اگر وہ ملاقات کی نیت سے نہ جاتے کہ آپس میں پیار اور محبت کے تعلقات مضبوط ہوں ، بلکہ اس خیال سے جاتے کہ وہاں مجھے اچھا کھا نا ملے گا تو وہ ایک بیہودہ اور لغو انسان ہوگا کیونکہ اگر وہ ملنے کی نیت سے جاتا تب بھی اسے اچھا کھانامل جاتا۔ اور اب جب کہ صرف کھانے کی خاطر آیا ہے تب بھی مل گیا ہے، لیکن یہ کھانا اس کے لیے کسی فخر کا باعث نہیں۔ اعث نہیں۔ بلکہ ذلت کا موجب ہے اسی طرح وہ شخص جو اس لیے استخارہ کرتا ہے کہ مجھے خوا ہیں آئیں ۔ وہ ایک بہودہ حرکت کرتا ہے اور ایسی خواہیں اس کے لیے کچھ بھی مفید نہیں ہونگی ۔ پھر اگر استخارہ کرنے پر خوابوں کا آنا ضروری ہے۔ تو چاہتے کہ انسان کو ہر رات خواہیں ہی آتی رہیں۔ ہر بات کے متعلق اسے اسی طرح آگاہ کیا جایا کرے کیونکہ ہر روز نمازوں میں کئی کئی بار وہ استخارہ کرتا ہے لیکن استخارہ کے لیے خوابوں کا آنا ضروری نہیں ہوتا ۔ بلکہ یہ تو دعا ہے۔ اس کے کرنے کے بعد جو خدا دل میں ڈالے اس پر عمل کرنا چاہتے ۔ اگر خدا تعالیٰ اس کام کے متعلق انشراح کر دے تو کر لیا جائے۔ اور اگر قبض پیدا ہو۔ تو نہ کیا جائے ؟ ( الفضل ۵ فروری شالته )