خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 153

۱۵۳ 29 حقیقی معرفت حاصل کرو ، د فرموده هر فروری شاشه ) حضور انور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔کلمہ توحید جو ہر ایک خطبہ اور لیکچر اور وعظہ کے ابتداء میں پڑھا جاتا ہے اور جس کی نسبت سب مسلمانوں کا یقین وایمان ہے کہ وہ اسلام کا مرکزی نقطہ ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لاتے ہوئے دین کا خلاصہ ہے اس میں مسلمانوں کو جن امور کی طرف متوجہ کیا گیا ہے ان کی طرف دھیان نہ رکھنے اور ذہن سے اتار دینے کی وجہ سے انسان علم دین سے دُور جا پڑتا اور اسلام سے ناوات ہو جاتا ہے اور اس کے عقائد میں کمزوری اور اعمال میں ابتری پیدا ہو جاتی ہے۔کیونکہ یہی کلمہ اور جملہ ان ضروری امور کو شامل رکھتا ہے۔جو عقائد اور اعمال کی درستی کے لیے ضروری ہیں۔انسان اسی کے نہ سمجھنے سے صراط مستقیم سے ادھر ادھر ہو جاتا اور اسی کو بھولنے سے جادہ اعتدال کو ترک کر دیتا ہے اور اسی سے عدم واقفیت کی وجہ سے ظلمت و گراہی میں جا پڑتا ہے۔یہی وہ کلمہ ہے جس کی معرفت سے انبیاء، انبیا - صدیق، صدیق اور شہید، شہید کہلائے اور ولیوں نے ولایت کا مرتبہ پایا اور دوسری طرف اسی کے نہ جاننے سے ایک ہستی نے اپنا نام ابلیس رکھایا ، لیکن باوجود اس کے بہت ہیں جو اس کلمہ کو پڑھتے ہیں مگر ان کے دلوں میں وسو سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ ایسے کامل الایمان نہیں ہوتے جس سے وہ ہر مشکل اور ہر دکھ اور ہر ابتداء میں قائم رہیں۔بلکہ بہت ہیں جو چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے ڈگمگا جاتے ہیں اور ان کا پائے ثبات اکھڑ جاتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ ان میں بہت سے ایسے ہوتے ہیں۔جو دین کے لیے دنیاوی فوائد کو چھوڑ دیتے ہیں۔تاہم بعض اوقات ایک ادنی اسی بات کی خاطر اپنے ایمان کو قائم نہیں رکھ سکتے اور چھوٹی سے چھوٹی بات ان کے ایمان کو ضائع کر دیتی ہے۔یہ صرف اسی کلمہ کی عدم معرفت کی وجہ سے ہوتا ہے پڑھنے کو توبہت پڑھتے ہیں لیکن لالہ الاللہ