خطبات محمود (جلد 6) — Page 151
۱۵۱ ہے کیونکہ افراد کا مجموعہ ہی جماعت ہوا کرتی ہے پس ترقی پانے والی جماعت کا فرض ہے کہ وہ اپنے افراد کی ترقی کی فکر کرے جو لوگ اس کا خیال نہیں کرتے ۔ ان کی جماعتیں آہستہ آہستہ ٹوٹ جاتی ہیں۔ اور فکر زور گھٹ جاتا ہے۔ اسلام نے اس بات کو مد نظر رکھا ہے کہ جو لوگ صاحب استعداد اور صاحب وسعت ہوں اور ان کے پاس دولت ہو۔ ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے کمزوروں کی مدد کریں۔ اور جو سختی ہیں انکو امداد دیں۔ ان کمزوروں میں بھی آگے دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک تو بڑے جوان ہوتے ہیں۔ وہ تو کسی نہ کسی طرح اپنی پرورش کر سکتے ہیں۔ دوسرے کمزور اور چھوٹے بچے ہوتے ہیں۔ جن میں نہ عقل ہوتی ہے نہ تجربہ اس لیے وہ اپنی پرورش کے لیے کچھ نہیں کر سکتے ۔ پس ہمارے لیے یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے کہ ہمارے یہاں قادیان میں ایک بڑی جماعت یمی کی موجود رہتی ہے ۔ ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ ان کے والدین اپنے وطنوں ں اور عزیزوں کو چھوڑ او کر یہاں آگئے اور موت نے ان کو اپنے بچوں سے جدا کر دیا ۔ اگر وہ بچے اپنے وطن میں ہوتے۔ تو ان کے عزیز ان کی پرورش کسی نہ کسی طرح کرتے لیکن وہ تو اپنے تمام عزیزوں کو چھوڑ کر میاں آ گئے تھے۔ اور یہاں ہی اُنھوں نے اپنے عزیز بناتے تھے اور یہاں ہی اُن کی رشتہ داریاں ہوتی تھیں۔ اور کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ بیرونی جماعتوں سے آتے ہیں۔ اور والدین کے فوت ہو جانے پر کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچ جاتے ہیں ۔ اب قیموں کے متعلق ایک تو مقامی جماعت کا فرض ہے۔ دوسرے تمام جماعت کا بھی فرض ہے۔ بہ لحاظ مقامی ہونے کے قادیان کی جماعت کا فرض ہے ۔ اور بہ لحاظ تمام جماعت کا مرکز ہونے کے بیرونی جماعتوں کا بھی فرض ہے۔ اس وقت تک یتیموں کے متعلق کوئی احسن تجویز نہیں ہو سکی۔ نہ ان پر کوئی توجہ کی جاسکی ہے، لیکن آپ میں نے حکم دیا ہے کہ تمام یتیموں کی فہرست بنائی جائے خواہ وہ قادیان کے ہوں یا باہر سے آئے ہوتے ہوں جب وہ فہرست تیار ہو جائے گی تو ان کے اخراجات کو جماعت پر پھیلایا جائیگا ۔ اور بہت حد تک ان کی پرورش کا فرض قادیان کی مرکزی جماعت پر ہوگا یتیمی کے لیے بعض تجاویز کی گئی ہیں مگر وہ ابھی مکمل نہیں ہوئیں ۔ مثلاً یہ کہ بعض لوگوں کے گھروں میں بچوں کو رکھا جاتے، لیکن اس میں یہ نقص ہے کہ بعض لوگ بچوں سے کام زیادہ لیتے ہیں اور ان کی سے زیادہ کا تعلیم و تربیت کا کچھ خیال نہیں رکھتے۔ اوریہ بھی تجویز کی گئی ہے کہ اک تیم خانہ بنایا جائے لیکن ظاہر ہے کہ یتیم خانہ کے لیے بڑے اخراجات کی ضرورت ہے اور وہ ہماری جماعت زیادہ برداشت