خطبات محمود (جلد 6) — Page 149
۱۳۹ حالانکہ ہندوستان کے حاجیوں میں عام طور پر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی غرض حج سے محض شہرت طلبی ہوتی ہے۔ ورنہ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی کوئی خشیت اور خوف نہیں ہوتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواة والسلام فرماتے تھے۔ کہ ایک ریل کے سٹیشن پر ایک نابینا بڑھیا بیٹھی تھی۔ ایک شخص نے اس کی چادر اتار لی۔ اس بڑھیا نے کہا بھائی حاجی مجھ غریب کی چادر کیوں لیتا ہے۔ میرے پاس تو کوئی اور کپڑا نہیں ہے میں سردی میں مر جاؤں گی۔ وہ چادر تو اس شخص نے رکھدی مگر پوچھا کہ تونے کسی طرح جانا کہ میں حاجی ہوں۔ بڑھیا نے جواب دیا کہ ایسے کام حاجی ہی کیا کرتے ہیں ۔ وہ عورت اس سے واقف تھی اور نہ اس کی آنکھیں سلامت تھیں مگر اس نے جو کچھ کہا۔ وہ اس کی فطرت کی آواز کی آواز تھی۔ لیکن باوجود اس قسم کی حالت کے پھر بھی عام طور پر حاجیوں کو بڑا نیک اور حج کو بڑی نیکی ہندوستان میں خیال کیا جاتا ہے ، لیکن عرب میں جاؤ تو وہ لوگ نیکی حج کو قرار نہیں دینگے وہاں کسی اور ہی چیز کا نام نیکی ہوگا۔ ان میں نیکی قومیت کے لحاظ سے سخاوت کو سمجھا جائیگا وہ لوگ اگر : کسی کی ت کی تعریف نیکی میں کریں گے ۔ تو کہیں گے کہ یہ شخص بڑا نیک ہے۔ کیونکہ بڑا سخی ہے۔ اسی طرح اب یورپ میں اسلام پھیلے۔ تو وہاں کے لوگ روزے کو بڑی نیکی سمجھیں گے ۔ کیونکہ وہ لوگ کثرت سے کھانے پینے والے ہیں ۔ پس جب ان کو کھانے پینے سے باز رہنا پڑیگا ۔ تو وہ حج زکوۃ - نماز و غیره دیگر احکام شرعی کی بجا آوری کو نیکی قرار دینے کی بجائے روزہ رکھنے کو سب سے بڑی نیکی قرار دیں گے ۔ پھر ہندوستان میں یہ بھی بڑی نیکی خیال کی جاتی ہے کہ کوئی شخص نمازہ کا پابند ہو ایسے شخص کو کہیں گے کہ یہ بڑا ہی نیک ہے۔ کیوں؟ اسلئے کہ نماز کا پابند ہے ۔ صحابہ کے وقت میں اگر کسی شخص کی تعریف نماز کی پابندی کے باعث کی جاتی تو وہ لڑ پڑتے۔ کیونکہ یہ ایسی ہی بات ہے ۔ جیسا کہا جائے کہ فلاں شخص بڑا بہادر ہے۔ کیونکہ وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو گیا ہے۔ یا یہ کہ شخص بڑا ہی تیز نظر ہے۔ کہ اس کی ماں اس کے پاس بیٹھی تھی۔ اس نے اس کو پہچان لیا۔ یا یہ کہ اس شخص کا معدہ بڑا ہی مضبوط ہے کہ اس نے ایک چنا ہضم کر لیا ہیں جیسا کہ بہادری تیز نظری اور مضبوطی معدہ کے یہ معیار نہایت مضحکہ انگیز ہیں۔ ایسے ہی صحابہ کے نزدیک کسی شخص کی نیکی کا معیار محض پابندی نمازہ مضحکہ انگیز تھا۔ کیونکہ وہ لوگ نیکی کے اس مقام پر کھڑے تھے ۔ جہاں پابندی نماز کو ایک بڑی نیکی قرار دینا ایک مضحکہ انگیز بات ہے ۔ وہ لوگ دین کے لیے بڑی قربانیوں اور سخت آزمائشوں کو نیکی سمجھتے تھے جس میں یہ باتیں زیادہ پاتے تھے ۔ اسی کو نیک کہتے تھے ۔