خطبات محمود (جلد 6) — Page 146
الدم 27 آتی خدا تعالیٰ سے دعا کرنیکی توفیق مانگو فرموده ۷ ار جنوری شاملة ) ( تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- انسان کے لیے ایک گھلا اور صاف رستہ اللہ تعالیٰ نے تجویز فرمایا ہے۔ اور وہ رستہ ایسا ہے کہ جس پر چل کر انسان بلا روک ٹوک بلاخد شہ - بلاکسی قسم کی تکلیف اور دُکھ کے بلا نا امیدی کے اس - مقام تک پہنچ جاتا ہے جس تک پہنچنا انسان کی پیدائش کا مقصد ہے، لیکن اگر اسے کوئی وقت میں ہے ۔ اگر کسی مشکل سے سامنا ہوتا ہے تو وہ اس کے نفس سے پیدا ہوتی ہے۔ اسے ناکامی اس لیے نہیں ہوتی کہ خدا نے اسے رستہ غلط بتایا ہے ۔ بلکہ اس لیے کہ وہ خود غلط رستہ پر چلتا ہے۔ وہ نا مراد اس لیے نہیں رہتا کہ اس کے لیے عمدہ تدبیر نہیں ۔ تدبیر تو ہے مگر وہ غلط تدبیر اختیار کرتا ہے ۔ اسی طرح وہ دکھ میں اس لیے نہیں پڑتا کہ اس کا کوئی علاج اس کا کوئی علاج نہیں ۔ علاج ہے، لیکن وہ وہ غلط علاج شروع کر دیتا ہے۔ اگر صحیح طریق اختیار کیا جائے توکبھی نا امیدی نہیں ہو سکتی ہپس کامیاب ہونے کے لیے صحیح راستہ کی تلاش کی جائے۔ اور وہ صحیح راستہ سوائے اس کے کہ خدا کے حضور ہی انسان گر جاتے نہیں مل سکتا۔ کہتے ہیں دُعا مفید چیز ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ واقعی دعا نہایت ہی عمدہ اور مفید چیز ہے مگر بعض دفعہ دعا کی توفیق ہی نہیں ملتی ۔ انسان بارہا سمجھتا ہے کہ اس کا کوئی سہارا نہیں ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ان مشکلات سے گزر جاتے مگر اس کو کوئی رستہ نظر نہیں آتا ۔ وہ جانتا ہے کہ نما ایک کارگر چیز ہے مگر سستی اسے ادھر متوجہ نہیں ہونے دیتی۔ پس دُعا کے لیے بھی دعا کی ضرورت ہے جب انسان خدا کے حضور گر پڑے ۔ تو اس کو دکھا کی توفیق مل جاتی ہے۔ کوئی کہے کہ جب دعا کیلئے بھی دعا کی ضرورت ہے تو جب وہ دُعا کے لیے دعا کر سکتا ہے۔ تو اس مقصد کے لیے کیوں دُعا نہیں