خطبات محمود (جلد 6) — Page 145
۱۴۵ یہ حالت مسلمانوں کی کب تک رہی اس وقت تک جب تک انھوں نے خدا کے اس انعام کی قدر کی جو خلافت کے رنگ میں ان پر کیا گیا تھا۔ مگر جب وہ مال دولت کے گھمنڈ میں آگئے اور اس نعمت کو حقیر خیال کرنے لگے تو حضرت عثمان کو قتل کیا۔ حضرت عثمان نے تو ان فتنہ انگیزوں کے مقابلہ میں ہاتھ ہ اٹھایا مگر اتنا ضرور فرمایا کہ دیکھو مجھ کوتل توکرتے ہو لیکن یاد رکھو کہ میرے قتل کے بعد مسلمانوں میں ایسا نفاق پیدا ہو گا کہ قیامت تک مسلمان جمع نہیں ہو سکیں گے لیے حضرت عثمان نے شہید ہو گئے مگر مسلمانوں میں وہ نا اتفاقی پھیلی کہ جس کا سلسلہ نا منقطع ہوگیا۔ حتی کہ حضرت مسیح موعود مبعوث ہوتے اور پھر ایک جامات قائم ہوئی مسلمانوں میں ہر روز نئے نئے فرقے پیدا ہونے لگے جس سے مسلمانوں کی طاقت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ۔ اور آج وہ اپنی آنکھوں میں آپ ہی ذلیل ہو گتے ہیں۔ اور ان کی یہ حالت ہے کہ اگر کسی مسلمان کو نوکر کی ضرورت پڑے تو بجائے مسلمان نوکر رکھنے کے ہندو کو پسند کرتا ہے۔ غیر کی نظر میں انسان ذلیل ہو تو خیر مگر اپنوں کی نظر میں ذلیل ہونا حد درجہ کی ذلت ہے۔ ان لوگوں کو محمدرسول للہصلی الہ علیہ سلم کا سا سول ملا اور قرآن میسی کتاب ملی مگر انہوں نے قدری کی۔ رسول کریم پر سچ کو وقیت دی اور کہا کہ وہ فوت ہو گئے اور قبر میں ہیں مگر مسیح زندہ خدا کے پاس بیٹھے ہیں۔ پھر کہا مسیح نہ صرف یہ کہ خود مُردہ نہیں ۔ بلکہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ نبی کریم کے فیضان کو انھوں نے بند کر دیا اور آپ کی بادشاہت کو تسلیم نہ کیا، لیکن مسیح کے لیے جائز رکھا کہ وہ آئیگا۔ اور امت محمدیہ کی اصلاح کرے گا۔ پس مسلمانوں نے حضرت نبی کریم کی بادشاہت کو پسند نہ کیا اور مسیح کی حکومت کو پسند کیا ۔ اس لیے ان پر عیسائی بادشاہ مسلط کئے گئے ۔ اور مسلمانوں کی سلطنتیں ایک ایک کر کے مٹادی گئیں۔ یہ سنا ہے ان کو جو انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی بھنک روا رکھی ہیں یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔ منہ سے بات تو نکل جاتی ہے۔ مگر جب اس کے نتائج نکلتے ہیں تو پتہ لگتا ہے تم لوگ خدا کی نعمتوں اور احسانوں کی قدر اوران کا شکر کرو۔ اور یاد رکھو کہ جنہوں نے خدا کی نعمتوں کا شکر نہ کیا وہ ہلاک کئے گئے۔ آج تم کو جو نعمت دی گئی ہے۔ یا آئندہ ملے اس کا شکر کرنا تمہارا فرض ہے۔ کیونکہ وہ خدا آج بھی موجود ہے۔ خدا کے انعام کو چھوٹا اور ذلیل نہ سمجھو۔ کیونکہ خدا کی نعمتوں کو ذلیل سمجھنے سے انسان چوڑھوں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور تمہیں بھی اس بات کے سمجھنے کی توفیق دے " له تاریخ الخلفاء للسیوطی حالات حضرت عثمان برخود الفضل ۱۸ جنوری سالته )