خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 144

۱۴۴ ہے ۔ ایک غریب جس کے پاس دس پندرہ روپیہ ہوں وہ دوتین سو روپیہ والے کو بڑا دولتمند خیال کریگا اور میں کے پاس دو تین سو روپیہ ہو وہ ہزار دو ہزار والے کو بے انتہا دولتمند خیال کریگا۔ اور ہزار دو ہزار والا لاکھ دو لاکھ والے اور لاکھ دو لاکھ والا کروڑ دو کروڑ والے کو متمول سمجھے گا۔ پس ہر ایک شخص دوسرے کے متعلق بے انت اور بے انتہا کے الفاظ استعمال کریگا۔ مگر ہر ایک کی جدا جدا بے انت اور بے انتہا ہوگی جو اس کے علم کے مطابق ہوگی۔ پس ہم یہ تو کہتے ہیں کہ خدا کی حمد کی کچھ انتہا نہیں۔ مگر ہمارا یہ کہنا اس دربار کے صاف کرنے والے کے بے انتہا کتنے کے برابر ہے۔ کیونکہ ہم جس چیز کو اپنے قیاس میں بے انتہا ٹھہراتے ہیں۔ اس کی ایک انتہا ہوتی ہے پیس اس لیے ہمارے پاس الفاظ نہیں جن سے ہم خدا کے احسانوں کا شکریہ کر سکیں اور ان احسانوں کو شمار کر سکیں۔ مگر کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ان احسانوں کا شکریہ کرنا تو بجائے خود رہا الٹی ان کی ناشکری کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ کو حمد سے شروع کیا ہے اور ضلالت اور گمراہی پر ختم کیا ہے ۔ سورۃ فاتحہ کی ابتدا بسم اللہ سے سمجھو۔ یا الحمد اللہ سے بہر حال دونوں جگہ برکت اور محمد سے شروع ہوتی ہے اور ختم ہوتی ہے غیر المغضوب عليهم ولا الضالين پر اس میں یہ بتایا کہ بہت لوگ احسانوں کی حمد نہ کر کے مغضوب اور ضال ہو جاتے ہیں۔ جب ان کو نعمت دی جاتی ہے تو اس وقت اس کی قدر نہیں کرتے۔ بلکہ اس کی قدر کرنے کا خیال اس وقت پیدا ہوتا ہے۔ جب وہ نعمت چلی جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ماتحت خلافت کا مسلہ جاری ہوا ۔ جب تک مسلمانوں نے اس کی قدر کی۔ وہ ہر طرح کی برکات سے مالا مال کئے گئے ۔ اگر چہ اس وقت عرب کو غیر سلطنتیں نہایت ہی ذلیل خیال کرتی تھیں۔ چنانچہ جب مسلمانوں نے ایران پر حملہ کیا تو شاہ ایران نے کہا کہ نی سپاہی ایک ایک اشرفی اور ہر افسرکو پانچ پانچ اشرفی دیدی جائیگی اگر تم اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ اس سے ظاہر ہے کہ ایرانیوں کی نظر میں عربوں کی کسی ذلیل حالت تھی ۔ یہ ایسی ادنی بات ہے کہ سرحدی لوگ جب فتنہ کرنے پر آتے ہیں۔ تو گورنمنٹ انگریزی کو اگر صلح سے ان کو دبانا منظور ہوتا ہے تو وہ بھی اس سے زیادہ ہی تجویز کرتی ہے، لیکن اگر صلح کی بجائے جنگ کے ذریعہ ان کی گوشمالی مد نظر ہوتی ہے۔ تو جنگ کرتی ہے اور اس پر بہت خرچ کرنا پڑتا ہے مگر ایرانیوں کی نظر میں عربوں کی اتنی بھی وقعت نہ تھی جتنی کہ سرحدی فتنہ انگیزوں کی انگریزوں کی نظر میں ہوتی ہے مگر یہ خدا تعالیٰ کا فضل تھا کہ وہ جنہیں ذلیل خیال کرتے۔ کرتے تھے ۔ انھوں نے بادشاہوں کے تختوں کو اکٹ دیا ۔ ل الفاروق (مصنفہ مولانا شبلی نعمانی ، حصہ اول منه