خطبات محمود (جلد 6) — Page 139
۱۳۹ علی قرآن کی یہ آب یہ آیت پڑھا کرتے تھے۔ تھے۔ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هُذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْر نَا لَهُ مُقْرِنِينَ وَ انا إلى ربَّنَا لَمُنْقَلِبُونَ (الزخرف : (۱۳) اور جس نے قرآن کا کوئی حصہ پڑھا اور اس پر عمل کیا وہ اس سے بہتر ہے جس نے سارا پڑھا اور کچھ بھی عمل نہ کیا پس جب حضرت علی قرآن کی اس آیت کو پڑھتے تھے۔ تو گویا وہ قرآن کو ختم کر لیتے تھے ۔ اس وقت میں نے جو سورہ فاتحہ پڑھی ہے وہ ایک مختصر وعظ ہے جو مختصر بھی ہے اور اور آسانی سے پڑھا بھی جاتا ہے۔ دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں وہ مطالب ہوں اسے ک جو قرآن کریم کے مسائل کے مقابل میں پیش ہو گئیں ہیں جب سورۃ فاتحہ پڑھو تو اهدنا الصراط امستقیم کو مدنظر کو یہ ای عملیات کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ اسکی پہلی آیات اعتقادات کی طرف متوجہ کرتی ہیں دوسرا حصہ جو اهدنا الصراط المستقیم سے شروع ہوتا ہے عملیات کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ یہ سات آیتیں ہیں ۔ ان سات پر عمل کرے تو ممکن نہیں کہ گمراہ ہو۔ اللہ تعالیٰ مجھے کو اور آپ کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیقی دے ۔ آمین : الفضل ۳ جنوری سالته )