خطبات محمود (جلد 6) — Page 138
۱۳۸ سُبْحَانَ اللهِ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيم دو کلمے ہیں جو اللہ کو پیارے ہیں اور بولنے لگو تو آسان ہیں، لیکن اگر تو لئے لگو تو بڑے بوجھل ہیں۔ وہ کیا ہیں ۔ سبحان اللہ و بحمدہ اور سبحان الله العظیم ہیں ۔ اب اگر ایک شخص تشہد کے بعد اما بعد کہ کر اور یہ حدیث پڑھ کر بیٹھ جائے تو اس نے وقت ضائع نہیں کیا۔ کیونکہ دانا کے نزدیک وہ بات پسندیدہ ہے۔ جو زبان پر ہلکی اور میزان میں وزن دار ہو۔ کیونکہ فرض تو مطلب اور مغز سے ہے نہ کہ نبی اور زیادہ گفتگو سے مثلا اگر پندرہ روپیہ کی بجائے ایک اشرفی اُٹھانی پڑے تو انسان اس کو پسند کریگا ۔ کیونکہ بوجھ سے بچ جائیگا ۔ اور کوئی داتا یہ نہیں کہے گا کہ میں پندرہ روپیہ کو چھوڑ کر ایک کونہیں لیتا۔ ہاں ایک بچے کے آگے ایک اشرفی اور رہیں روپے رکھ دو تو بچہ اشرفی کی بجائے روپیوں کی طرف جھپٹے گا، لیکن عقلمند جانتا ہے کہ اشرفی اگر چہ اُٹھانے میں کم وزنی ہے۔ مگر حقیقت میں اور قیمت میں دس روپیہ سے کہیں زیادہ ہے ۔ اس طریق کو پہلے زمانہ کے لوگ خوب سمجھتے تھے کہ مختصر طور پر عمدہ بات کہدی جائے ۔ رسول کریم کے خلیے اس کی مثال ہیں۔ مگر اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لمبا خطبہ نہیں کہہ سکتے تھے ۔ آپ نے باوجود عمر کے لحاظ سے پیری میں ہونے کے ایک دفعہ صبح سے شروع کر کے شام تک خطبہ پڑھا ۔ نماز کے وقت نماز پڑھ لیتے اور پھر تقریر شروع فرما دیتے ہے پس یہ نہیں کہ آپ لمبی تقریر نہیں کر سکتے تھے۔ ضرور کر سکتے تھے اور ضرورت کے وقت کرتے تھے، لیکن مختصر سے مخضر وعظ بھی فرماتے تھے جس میں نہایت قیمتی اور وزنی باتیں بیان فرماتے تھے۔ دراصل اگر لمبی تقریر میں مغز نہیں تو وہ کچھ نہیں ۔ اور اگر مختصر تقریر میں مغز ہے تو وہ نہایت قیمتی ہے آپ لوگ اگر مختصر وعظ سیکھنا چاہی تو قرآن کریم کو پڑھیں۔ اس کے ایک ایک لفظ میں اگر تم غور کرو گے تو لے لیے لیکچر شروع ہو جائیں گے۔ پھر سارے قرآن کریم کا خلاصہ سورہ فاتحہ ہے جو کہ نماز میں معمولی طور پریس سے پچاس مرتبہ تک روزانہ پڑھی جاتی ہے مگر کم ہیں جو جان سکتے ہیں کہ انھوں نے اتنی دفعہ قرآن کریم کو ختم کیا ہے ۔ عام طور پر مشہور ہے کہ حضرت علی شجب گھوڑے پر سوار ہونے لگتے تو ایک رکاب سے دوسری میں قدم رکھنے کے وقفہ میں قرآن کریم ختم کر دیتے تھے۔ بعض نے اس کو بالکل جھٹلایا ۔ اور بعض نے اس کو معجزہ بتایا ہے مگر نہ یہ بالکل غلط ہے اور نہ معجزہ ہے ۔ بات دراصل یہ ہے کہ حضرت له بخاری و مسلم بحواله مشكوة كتاب الاسماءه في التسبيح والتحميد کے صحیح مسلم کتاب الفتن باب اخبار النبي فيما يكون الى قيام الساعة ۔