خطبات محمود (جلد 6) — Page 135
۱۳۵ ہو جائیگا مگر فوراً اپنی اصلی بات یاد کر کے وہی مطالبہ کریگا کہ میں نے اپنی ماں کے پاس جانا ہے۔ اسی طرح ہر مومن کی پکار یہی ہوتی ہے ۔ ہاں وہ مومن جو خدا کو سار سے جہان سے زیادہ محبت کرنے ہے ۔ وہ کو والا اور شفیق خیال کرتا ہے ۔ اس کی ہر دم میں آوازہ ہوتی ہے کہ مجھے اپنے خدا کو پانا ہے ۔ ہاں اس بچہ کی پکار اور اس مومن کی پکار میں ایک فرق ہوتا ہے اور وہ یہ کہ بچہ تو غیروں سے کہتا ہے کہ مجھے ماں تک پہنچاؤ ، لیکن مومن کہتا ہے لا ملجا ولا منجا منك الا اليك - میں نے تو تیرے پاس آنا ہے۔ مجھے تو تیرے سوا کوئی ٹھکانا میسر نہیں آتا۔ وہ دوسرے کا ممنون احسان نہیں ہونا چاہتا۔ بلکہ اس کو پکارنے کے لیے اور اس کو پانے کے لیے اسی کو پکارتا ہے۔ پس جو شخص دیکھے کہ اس کے دل سے اھدنا الصراط المستقیم کی صدا بدانیں ہوتی ۔ اس کا دل تاریکی میں ہے اور اس کی ایمانی حالت کزور ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے الفضل ۲۴ دسمبر شاه ) ہمیں مضبوط ایمان عطا فرمائے ۔