خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 134

24 مومن کی پکار فرموده ۲۰ دسمبر) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- انسانی ترقی کا منتها اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف اللہ تعالی سے تعلق ہے۔ اس کے سوا انسانی ترقی کا اور کوئی منتہا نہیں۔ اگر واقع میں انسان انسان ہو تو اس کے لیے اس کے سوا اور کوئی منتہاء نہیں جس طرح بچہ ماں کے ڈر سے کہیں نہیں پھرتا۔ اور اگر کوئی غیر عورت اس کو گود میں لینا چاہے تو وہ اس کی گودمیں جانا پسند نہیں کرتا جس طرح انسان کے علاوہ حیوانوں کے بچے بھی اپنی ماں کا پیچھا کرتے ہیں۔ اسی طرح جو انسان ہو اور حقیقی انسانیت اس میں پائی جاتی ہو۔ یا حیوان ہی کہلانے کے قابل ہو تو وہ اس ہو وقت تک صبر نہیں کر سکتا۔ جب تک کہ مہربان خدا کی گود میں نہ چلا جاتے۔ کیونکہ خدا ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ اس لیے وہ شخص جو اس کو پابھی ہے۔ وہ بھی اپنی تلاش اور جستجو کو ترک نہیں کرتا بلکہ اپنی راد کو پہنچ کربھی اس تاش کو جاری ہی رکھتا ہے۔ کیونکہ نیا کی تمام چیزیں محدود ہیں۔ اس لیے جب ان کو پا لیا ہے نیا انکو جاتا ہے۔ تو ان کی تلاش اور جستجو ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن چونکہ خدا کامل ہے اور غیر محدود اس لیے خدا کا حصول کبھی کامل نہیں ہوتا ۔ بچہ کی ماں محدود ہے۔ اس لیے وہ اس وقت تک روتا ہے جب تک کہ ماں سے نہ ملے، لیکن جب ماں مل گئی تو پھر وہ اس کی تلاش ختم کر دیا ہے مگر چونکہ خدا کی معرفت محدود نہیں کہ انسان کی سے کہ میں آخری حد کو پہنچ گیا ہوں۔ اس لیے خواہ انسان کتنا ہی عرفان میں بڑھ گیا ہو۔ تب بھی جس طرح بچہ ماں کے بغیر صبر نہیں کر سکتا ۔ اسی طرح انسان بھی ہا تھ بلند کر کے یہیں کہیگا - اهدنا الصراط المستقيم ماں سے بچھڑے ہوتے بچے کی یہی پکار ہوتی ہے کہ میری ماں کہاں ہے خواہ اس کو ہزار چیزیں دیجائیں تو بھی وہی کہا کرتا ہے۔ کہ میں اماں کے پاس جاتو نگا۔ ایسی حالت میں اس بچہ کے سامنے ہزار باتیں کرو اس کو مختلف نظارے دکھاؤ۔ دروازے کھٹکھٹاؤ ۔ ستارے دکھاؤ۔ اس سے ذرا سی دیر کے لیے تو خاموش