خطبات محمود (جلد 6) — Page 133
تو خدا کا نام لیتا۔پاخانہ سے فراغت پا تا تو خدا کا نام لیتا۔شادی کرتا تو خدا کا نام لیتا غم میں مبتلا ہوتا تو خدا کا نام اس کی زبان پر ہوتا کوئی پیدا ہوتا تو خدا کا نام لیتا کوئی مرتا تو خدا کا نام لیتا۔اگر اٹھتا تو خدا کا نام لیتا۔اگر بیٹھتا تو خدا کا نام لیتا ہو نے لگتا تو خدا کا نام لیتا۔جاگتا تو خدا کا نام لیتا۔صبح ہوتی تو خدا کا نام بیتا شام ہوتی تو خدا کا نام لیتا۔بہرحال محمد کو کچھ بھی کہو مگر اللہ کے لفظ کا اس کو ضرور جنون تھا۔یہ نمونہ ہے آپ کے اعمال کا کہ دشمن سے دشمن بھی مجبور ہے اس بات کا اقرار کرنے پر کہ آپ کے لب پر ہر وقت اور ہر حال میں اور آپ کی ہر ایک حرکت و سکون میں خدا ہی نظر آتا تھا۔یہ ایمان ہے جو اسلام مسلمانوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے پس مومن کو چاہتے کہ کامل ایمان پیدا کرے۔بہت ہیں جو ایمان کی لاف مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم خدا کو ہی تمام خوبیوں والا یقین کرتے ہیں۔مگر ان کے اعمال اس کے خلاف ہوتے ہیں۔میں نصیحت کرتا ہوں کہ تمام دنیا میں قرتی بھی ایسی چیز نہیں۔جو خدا کے برابر حسین۔اور خدا کے برابر خیروخوبی والی ہو۔ہر ایک چیز میں تغیر اور زواا ہے۔حتی کہ طبقات الارض والے کہتے ہیں۔کہ ایک وقت آئے گا جب کہ سورج اور چاند بھی ٹوٹ جائیں گے ایک نی زمین اور نیا سمان نیا سورج اور نیا چاند پیدا کیا جائیگا۔پس ان تمام اشیاء میں تغیر ہے۔مگر خدا کے لیے فنانہیں پس کوئی چیز نہیں جو خدا کے سوا کام آنے والی ہو۔اس لیے اس ہے تعلق پیدا کرو۔اور اسی سے محبت کرو۔اسی سے پیار کرو دنیا کے رشتے کسی کام نہیں آئینگے محض خدا کی محبت اور اسی کا تعلق کام آنے والی چیز ہے کیونکہ آخر میں اسی سے واسطہ ہے اور وہی اس قابل ہے کہ اس سے محبت کی جائے۔ہر حالت اور ہر ایک شعبہ زندگی وموت میں سوائے خدا کے اور کوئی چیز کام آنے والی نہیں۔خُدا کی ذات ہی ایسی ذات ہے کہ اس سے محبت کی جاتے ہیں اپنے اندر کامل ایمان پیدا کرو الفضل ار دسمبر سالته )