خطبات محمود (جلد 6) — Page 132
ہیں جو پیچھے دل سے اسلام پر ایمان رکھتے ہیں مگر با وجود اس یقین کے وہ شریعت پر عمل نہیں کرتے۔اگر ان کو ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیا جائے تب بھی مسلمان کہلانے سے انکار کرنا پسند نہیں کریں گے، لیکن عملی طور پر اسلام پر نہیں چلیں گے یہی حالت دوسرے مذاہب کے لوگوں کی ہے، مگر با وجود اس جاں نثاری کے ان کے اعمال اس مذہب کے مطابق نہیں ہوتے۔پیس جولوگ کسی کے کامل ایمان کا اندازہ کرنا چاہتے ہیں۔وہ اس کے ثمرات دیکھیں کہ آیا اسی عبادات شریعت کے مطابق ہیں۔یا نہیں۔وہ اس کے احکام کا خیال رکھتا ہے یا نہیں۔اور کیا ایسی حالت ہے یا نہیں کہ بھول کر بھی خدا کی نافرمانی کا خیال دل میں پیدا نہیں ہوتا۔جس کی فطرت صحیحہ ہوگی وہ چاہیگا کہ اس کا ایمان کامل ہو۔کیونکہ کوئی شخص اچھی چیز کو چھوڑ کر بڑی کو ہرگز نہیں اختیار کرے گا اور عمدہ اور طیب رزق کو چھوڑ کر سڑے اور گلے رزق کو نہیں کھائیگا۔میں اسی فطرت صحیحہ والا شخص یہی چاہے گا کہ اس کا ایمان کامل ہو۔یہ نہیں چاہے گا کہ اس کا ایمان نامکمل اور ادھورا ہو ، لیکن کامل ایمان وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ ثمرات ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان حقیقی ایمان تھا۔سب مسلمان الحمد للہ کہتے ہیں اور الحمد للہ کے معنی یہ ہیں کہ سب سچی تعریفیں اس خدا کے لیے ہیں، جو ہر قسم کے نقصوں سے پاک اور تمام خوبیوں کا جامع ہے پس جس کے لیے سب تعریفیں ہونگی وہی سب سے زیادہ حسین ہوگا اور جو سب سے زیادہ حسین ہوگا وہی زیادہ محبوب اور مطلوب ہو گا۔اس لیے جو الحمد للہ کہتا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی حسین نہیں، لیکن اگر وہ اور چیزوں کی بھی پرستش کرتا ہے تو وہ حقیقت میں الحمد للہ کے ثمرات سے بے خبر ہے۔یوں تو الحمد للہ اپنے رنگ میں ہر ایک مذہب کا آدمی کہے گا مگر عمل اس کے مخالف ہوگا، لیکن جن کو واقعی اس پر یقین ہو گا۔اُن کا عمل ان کے ایمان پر گواہی دیگا۔ان لوگوں کے مقابلہ میں جو الحمد للہ تو کہتے ہیں۔مگر ان کے اعمال اس پر گوا ہی نہیں دیتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ ولم کو دیکھو آپ نے بھی الحمد للہ کہا۔کہ خدا کے لیے سب خوبیاں ہیں۔پھر آپ نے اس قول کو ندگی کے ہر ایک شعبے میں نا یا فرانس کا ایک مشہور مصنف لکھتا ہے کہ ہم کچھ بھی رنعوذ باللہ محمد صلی الہ علیہ وسلم کے متعلق کہیں۔ہم کہیں کہ وہ پاگل تھا۔مجنوں تھا۔اس نے دنیا میں ظلم کئے اس نے سوسائٹی میں تفرقہ ڈالا مگر ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس کو خُدا کے نام کا سخت جنون تھا۔ہم اور کچھ بھی کہدیں مگر یہ نہیں کر سکتے کہ اس کو خدا سے تعلق نہیں تھا۔وہ جو کچھ بھی کرتا۔اور وہ جس حالت میں بھی نظر آتا خدا کا نام ضرور اس کی زبان پر ہوتا اگر وہ کھانا کھاتا تو خدا کا نام لیتا۔اگر کپڑا پہنتا تو خدا کا نام لیتا۔اگر پاخانہ جاتا