خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 131

23 " کامل ایمان حاصل کرو فرموده ۶ دسمبر شاشته) حضور انور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- جو بات انسان سمجھتا اور یقین رکھتا ہے اس کے متعلق اس کا یقین اگر انتہا تک پہنچ جائے تو ضرور اس کے اثرات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ہر آم کا درخت پھل دار نہیں ہوتا۔اور بر ایک سنگترہ کے پیڑ کو پھل نہیں آتا۔ہر انگور کی بیل کو خوشت انگور نہیں لگتا۔اور ہر بیری کے درخت پر بیر نہیں آتے، لیکن اگر تمام پہلو درست ہوں درخت کی ظاہری اور باطنی حالت میں کوئی نقص نہ ہو تو ضرور پھل آتے ہیں۔پس ثمرات کا پیدا نہ ہونا اس امر کی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ درخت جس نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔پھل کے نہ آنے کے باعث اس کے نام سے انکار ہو جائیگا۔پھل نہ ہوں، لیکن نام اس کا وہی رہے گا۔جو فی الواقع ہے۔یعنی اس کا درخت۔سنگترہ کا پیٹر۔انگور کی بیل وغیرہ وغیرہ ہاں پھل کا نہ ہونا اس بات کی ضرور دلیل ہو گا کہ اس کو کمال حاصل نہیں ہے۔پس پھیل کے نہ ہونے سے کمال کی نفی ہو گی۔اس کے اسم کی نفی نہیں ہو سکتی۔یہی حال ایمان کا ہے۔بہت لوگ مومن ہوتے ہیں۔مگر ان کا ایمان ثمردار نہیں ہوتالیکن تمرات کے نہ ہونے سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ مومن نہیں۔مومن تو ہیں، لیکن کامل مومن نہیں جس غرض کے لیے ایمان دنیا میں نازل کیا گیا ہے وہ غرض ان کے ایمان سے پوری نہیں ہوتی۔مثلاً ایک شخص ایک حد تک مومن ہو مگر ایمان کے ثمرات نہ رکھتا ہو تو اسکا ایمان کامل ایمان نہیں ہو گا۔چنانچہ بہت لوگ ہیں جو اپنے عقائد اور ایمان اور یقین رکھتے ہیں۔مثلاً بہت عیسائی ہیں جو بیچتے دل سے عیسائیت پر ایمان رکھتے ہیں۔مگر ان اعمال کو جو کچھ بھی عیسائیت میں ہیں بجا نہیں لاتے۔یا بہت ہندو ہیں جو نیچے دل۔اپنے دھرم پر یقین رکھنے کے باوجود ہندوانہ رسوم و اعمال کو بجا نہیں لاتے۔یا مثلاً بہت سے مسلمان