خطبات محمود (جلد 6) — Page 129
22 انداری اعلان فرموده ۲۹ نومبر ته ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد سورۃ الحشر کی مندرجہ ذیل آیت تلاوت فرمائی :- يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحشر: 19) اور فرمایا :- اور کچھ زیادہ عرصہ اس بات کو نہیں گذرا کہ میں نے اس مقام پر کھڑے ہو کر آپ لوگوں کو اس بات کی طرف متوجہ کیا تھا کہ خدا کا غضب بھڑک رہا ہے ۔ اس کی قہرمی تلوار چل رہی ہے ۔ اس - اس کا عذاب دنیا پر نازل ہو رہا ہے اور وہ اپنی اپنی قهری قهری؟ تجلیات سے ظاہر ہو رہا ہے ۔ میں نے آپ لوگوں کو نصیحت کی تھی کہ پیشتر اس کے کہ توبہ کا دروازہ بند ہو ۔ تو یہ کرو۔ عذاب میں گرفتار ہونے سے پیشتر خدا سے صلح کر لو۔ کیونکہ صلح کا وقت وہی ہوتا ہے۔ جب تک کہ انسان آلام میں گرفتار نہ ہوا ہو ۔ اس کے بعد کے ایام نے دنیا کو اس بات کا یقین دلا دیا کہ خدا تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ تمام کی تمام دنیا کو ایک حکم سے فنا کر دے ۔ خدا کے غضب کی ہر ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیل گئی ۔ گھروں کے گھر ویران ہو گئے ۔ خاندانوں کے خاندان تباہ ہو گئے ۔ وہ گھر جن کے بسنے والے اس فکر میں تھے کہ ہماری آئندہ رہائش کو موجودہ مکان کافی نہیں اور جو اس تدبیر میں تھے کہ اپنی بڑھنے والی نسل کے لیے نئے مکان تعمیر کریں ۔ ان میں سے بہتوں کے گھروں کو تالے لگ گئے نئے تو کیا بننے تھے پہلے ہی ویران ہو گئے اور کوئی لینے والا نہیں رہا۔ یہ بات کسی ایک جگہ پر نہیں دو جگہ پر نہیں کیونکہ شاذو نادر تو ایسے واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک ہر شہر اور ہر محلہ میں اس کی نظیریں موجود ہیں پس خدا نے تمہیں دکھا دیا کہ میں کیسا قادر مطلق خدا ہوں ۔ دنیا حیران تھی کہ خدا کس طرح مار سکتا ہے۔ خدا نے نمونہ دکھا دیا ۔ لوگ کہتے تھے کہ قیامت کیسے برپا ہو سکتی ہے۔ خُدا نے مشاہدہ کرا دیا کہ قیامت اس طرح بر پا ہوگی جس طرح اب قیامت کا نمونہ