خطبات محمود (جلد 6) — Page 125
۱۲۵ ہے جنہوں نے موجودہ عذاب سے پہلے آنے والے رسول کو نہیں پہچانا ۔ اور قبول نہیں کیا۔ انھیں تلاش کرنا چاہتے ۔ کہ عذاب تو موجود ہے جو اپنی نوعیت میں معمولی نہیں۔ بلکہ غیر معمولی ہے۔ پھر وہ رسول کہاں ہے جو خدا تعالیٰ کے مذکورہ بالا قانون کے مطابق عذاب سے پہلے آنا چاہتے تھا۔ اور اگر کہیں کہ خدا نے کوئی رسول نہیں بھیجا، تو کیا وہ خدا کو چھوٹا تسلیم نہیں کریں گے۔ پھر کیا وہ قرآن کو چھوڑ دیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ قرآن می فرماتا ہے کہ عذاب سے قبل میں رسول بھیجتا ہوں اور جب تک آنے والی ہلاکت سے متنبہ کرنے کے لیے رسول نہ آتے ہیں عذاب نہیں دیتا ۔ مگر یہاں عذاب تو مختلف شکلوں میں موجودہ ہے اور تباہی ہر طرف اپنے ہاتھ پھیلاتے ہوتے ہے ، لیکن کہا جاتا ہے کہ رسول کا پتہ نہیں ۔ کم از کم قرآن کے ماننے والوں پر تو یہ حجت ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے ہی یہ قانون مقرر فرمایا ، کہ اس وقت تک عذاب نہیں آتا جب تک کہ رسول نہ آئے پس اب جبکہ عذاب آگیا ہے ۔ اور عذاب بھی ایسا ہے جو عالمگیر ہے۔ تو معلوم ہوا کہ خدا کا رسول آچکا ہے اور رسول بھی کوئی معمولی رسول نہیں ۔ بلکہ وہ بھی تمام دنیا کے لیے رسول ہے۔ اور اس کا تعلق صرف ایک خطہ زمین سے نہیں۔ بلکہ تمام روئے زمین کے باشندوں کے ساتھ ہے۔ کیونکہ اس وقت تباہی ساری دنیا پر پھیلی ہوتی ہے۔ اس لیے وہ رسول بھی ساری دنیا کے لیے ہے۔ اور یہ ہم نہیں کہتے بلکہ خدا کہتا ہے نہں غور کرو کہ یہ کیا خوفناک وقت ہے۔ ایک عذاب ابھی پیچھا نہیں چھوڑتا کہ دوسرا اس سے بھی سخت آموجود ہوتا ہے طاعون ابھی ابھی گئی نہیں کہ اس کے علاوہ ایک اور نہایت خطرناک مرض نمودار ہو گیا ہے جس نے طاعون کا کام سنبھال لیا ہے چونکہ طاعون کو لوگوں نے اب معمولی بیماری سمجھ لیا تھا اس لیے خدا نے ایک اور مرض بھیجا جو طاعون سے الگ ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب دوزخیوں کی جلدیں جل جائیں گی تو ان کی جلدوں کو ہم بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کو چکھ سکیں ۔ وہاں تو جلدیں بدلی جائینگی، لیکن بیاں عذاب بدلے جا رہے ہیں ۔ تاکہ لوگ ایک عذاب کے عادی ہو کر اسے معمولی نہ سمجھ لیں اور اس سے بے پروانہ ہو جائیں۔ پس فی الحال طاعون چلا گیا۔ چنانچہ اخباروں میں شائع ہو رہا ہے کہ آجکل طاعون سے چونکہ کوئی کہیں نہیں ہوتا یا شاذو نادر ہوتا ہے اس لیے یہاں سے چلا گیا اور اس کی بجائے خدا نے ایک نئے مرض کو بھیجدیا۔ اور اس بات سے خدا تعالیٰ نے اپنے اس رسول کے ذریعہ جسے اس نے ان عذابوں سے پہلے بھیجا ، آگاہ کر دیا تھا کہ میں نئے نئے امراض بھیجونگا چنانچہ اب وہ بھیج رہا ہے اور اس نئے مرض سے قریباً ۸۰۰ روزانہ موتیں صرف بہتی ہیں ہوتی ہیں اور علاقہ کی حالت تو اور بھی خراب ہے۔ پھر پنجاب کے ہر قریہ ہر قصبہ اور ہر شہر میں اس