خطبات محمود (جلد 6) — Page 122
۱۲۲ پھیلا دی ہیں جنگیں اس نے شروع کرادی ہیں تو آخر اس کی کچھ وجہ تو ہونا چاہیئے ۔ اس کی دو ہی وجہیں ہو سکتی ہیں۔ یاتو یہ کہ وہ رحم کرنے والا خدا بدل گیا اور اس کی جگہ (نعوذ باشد ، کوئی سفاک اور ظالم خدا آگیا، لیکن یہ بات بالکل غلط ہے۔ کیونکہ خدامیں ہرگز کوئی تغیر نہیں آسکتا۔ اس لیے آج بھی وہی خدا ہے۔ جو آج سے قبل تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اب انسان وہ انسان نہیں رہے جو آج سے قبل ہوتے تھے اور جن پر خدا رحم یا کرتا تھا بلکہ اس زمانہ کے انسانوں نے اپنی حالت کو بدل لیا ہے جو اچھے تھے وہ مرگئے اور ظالم و ہے جو تھے وہ رکتے و سفاک اور دین سے لا پرواہ اور تقویٰ سے بے خبر اور گند سے لوگ رہ گئے ہیں۔ پہلی وجہ چونکہ درست نہیں ہو سکتی ۔ اس لیے یہی درست ہے اور در حقیقت بات بھی یہی ہے کہ موجودہ انسانوں نے ایک بڑی تبدیلی اپنے اندر پیدا کرلی ہے اور چونکہ وہ خدا تعالیٰ سے اتنے لا پرواہ اتنے دور اور اتنے سرکش ہو گئے ہیں جتنے اس زمانہ سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے ان پر ہر قسم کی مصیبتوں اور تکلیفوں کے دروازے کھول دیئے گئے اور عذاب کے ایسے گئے چھوڑ دیئے گئے جیسے ان سے پہلے لوگوں پر کبھی نہیں چھوڑے گئے ۔ ایسے پس یہ خیال بالکل غلط ہے کہ (نعوذ باللہ ) خدا بدل گیا ہے۔ بلکہ بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے انسانوں کی حالت نہایت خراب ہو گئی ہے ۔ وہ نسل جو اچھی تھی گزر گئی اس کے بعد جو پیدا ہوئے وہ اچھے نہیں۔ خدا تو ازلی ابدی ہے ۔ اس لیے اس میں کوئی نقص نہیں پیدا ہو سکتا ، لیکن انسان چونکہ فانی ہستی ہے اس لیے نیکوں اور اچھے لوگوں کے مرنے کے بعد بڑے اور بدکار پیدا ہو سکتے ہیں اور ایسے ہی ہو رہے ہیں ۔ اب چونکہ انسانوں نے خدا کو چھوڑ دیا ہے اس لیے انھیں آفتوں میں ڈالا گیا تا خدا کی ہی آغوش میں آئیں اور خدا کی آغوش کے سوا دنیا میں کہیں امن نہیں پس اب امن حاصل کرنے اور مصائب و آرام سے بچنے کا ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ خدا کے دروازے پر گر پڑیں ۔ کیونکہ جو خدا کے دروازے پر گر پڑے وہ کبھی ہلاک نہیں کئے گئے ۔ تاریخ اس کی شاہد ہے ۔ دیکھیو اہلِ عرب نے خدا کو چھوڑ دیا تھا وہ اس سے منہ موڑ چکے تھے۔ اس پر خدا نے ایک نبی کے ذریعہ ان کو اپنی طرف بلایا۔ اور ایسے وقت میں بلایا جبکہ ان کی حالت بہت بڑی تھی اور چونکہ اُنھوں نے خدا کی طرف آنے کی بجائے اس سے اور زیادہ سرکشی کی اس لیے خدا تعالیٰ نے انھیں سیدھا کرنے کے لیے عذابوں میں گرفتار کیا، لیکن جب وہ خدا کی طرف آگئے تو ان تمام ذلتوں کو عزتوں سے تمام ہلاکتوں کو خوشحالیوں سے بدل دیا۔ اسی طرح