خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 121

۱۲۱ ہو جائیں۔ پس میں وہ بات ہے جس کے باعث وہ سب کو ہلاک نہیں کرتا۔ کہ آخر ہیں تو میرے ہی بندے اور میری ہی مخلوق ۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کا رحم سزا کے وقت بھی انسان کو نہیں چھوڑتا۔ بلکہ خدا کی سے جو سزا آتی ہے وہ بھی اس کا رحم ہی ہوتا ہے ۔ تا لوگ عبرت پکڑیں اور بڑے مذاب سے طرف سے جو بچ سکیں۔ پس جس زمانہ میں انسان خدا سے جدا ہو جاتے ہیں اور اس سے منہ موڑ لیتے ہیں خدا ان پر یہ رسم رماتا ہے کہ ان کی ہلائی کی خطر نبی عوث فرماتا ہے جوان کو خدا کی طرف بلاتا ہے مگر دنیا کے لوگ دنیا کی طرف ایسے جھلکے ہوتے ہیں کہ اس کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے ۔ اور اگر کرتے ہیں تو اس کی مخالفت اور دشمنی کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ اس کی دشمنی اس کی دشمنی نہیں ہوتی بلکہ خدا کی ہوتی ہے۔ کیونکہ خدا اس کے ذریعہ ظاہر ہوتا ہے ۔ حضرت مرزا صاحب کے دشمن آپ کی مخالفت نہیں کرتے۔ حضرت مسیح کے دشمن حضرت مسیح کے ثمن نہیں تھے اور حضرت موسیٰ کے مخالف حضرت موسیٰ کے مخالف نہیں تھے۔ بلکہ وہ اس چیز کے دشمن تھے جو وہ دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے ۔ اور وہ کیا تھا ۔ وہ خدا اور اس کا کلام تھا۔ پس انبیاء کے دشمن ان کی ذات کے دشمن نہیں ہوتے۔ بلکہ خدا کے دشمن ہوتے ہیں۔ انبیا مه تو گنامی میں رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بہ نسبت دنیا میں ظاہر ہونے کے لیکن خدا ان کو گوشتہ گمنامی سے کھینچ کر دنیا کے سامنے لاتا ہے۔ پس چونکہ ان کو اپنی بڑائی منظور نہیں ہوتی بلکہ وہ خدا کی بڑائی کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کی مخالفت ان کی مخالفت نہیں تھی۔ بلکہ خدا کی مخالفت تھی ۔ اور ان کے مخالف خدا کے مخالف تھے مگر باوجود اس قدر مخالفتوں اور عنادوں کے جو وہ خدا کے نبیوں کے بالواسطہ خدا کے ساتھ کرتے رہے۔ خدا پھر بھی ان پر رحم فرماتا رہا ہے۔ اب غور کرنا چاہیئے کہ وہ خدا جو اپنی مخلوق کے ساتھ ایسا مہربان اور رحم کرنے والا ہے اسے اب ہو کیا گیا کہ دنیا کو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کر کے تباہ کر رہا ہے۔ کوئی عقلمند جب اپنی بیوی اپنے بچوں اور اپنے بھائیوں پر ظلم نہیں کرتا۔ ان کے گلوں پر چھری نہیں پھیرتا اور اپنے دوست کے کو قتل نہیں کرتا ۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ خدا جو اپنے بندوں پر ایسا رحم اور محبت کرنے والا ہے کہ اس کے رحم کے مقابل میں کسی کارم بھی پیش نہیں کیا جاسکتا وہ کیوں دنیا پر طرح طرح کے عذاب بھیج رہا ہے۔ کہیں قحط سے دنیا ہلاک ہو رہی ہے۔ کہیں قتل و غارت کا زور شور ہے کہیں طاعون سے ہلاکت پھیل رہی ہے۔ اور کہیں ایسی ایسی بیماریاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ جو اس سے قبل کبھی ظاہر نہیں ہوئیں۔ پس جبکہ خدا تعالی طرح طرح کی آفات بھیج رہا ہے۔ غلہ اس نے کھینچ لیا ہے۔ وبائیں اس نے