خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 120

۱۲۰ لیکن کیسے تعجب کی بات ہے کہ ایک بچہ جو اپنی ماں سے روٹھ کر اس کی گود سے نکلتا ہے، وہ تو ماں کے صرف اتنا کہ دینے سے کہ ہوا آیا دوڑ کر ماں کی چھاتی سے لیٹ جاتا ہے۔ حالانکہ وہ تو جھوٹ موٹ کا ہوا ہوتا ہے۔ مگر اس بچہ پر اس قدر اثر کرتا ہے کہ اپنی مام ناراضگی کو بھول جاتا ہے۔ اور اپنی ما کی گود کو ہی اپنے لیے جائے حفاظت سمجھتا ہے، لیکن انسانوں کے سامنے بیچ بیچ کے ہو سے عذابوں کی صورت میں آتے ہیں۔ اور خدا کا نبی بار بار اور بڑے زور سے ان کے آنے سے پہلے اطلاع دیتا ہے ۔ تاکہ انسان اپنے خالق اور مالک کو راضی کر لیں اور اس کے آگے جھک جائیں ۔ مگر یہ نہیں ڈرتے۔ اور اتنا تکبر دکھاتے ہیں کہ خدا کی طرف سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ قحط کی مصیبتیں اُٹھائیں گے مگر مهربان خدا کی آغوش میں نہیں جائیں گئے وباؤں اور بیماریوں سے اپنے ساتھیوں کو تباہ و برباد ہوتا کھیں گے مگر خدا کی طرف نہیں جھکیں گے۔ زلزلوں سے سیلابوں سے خانماں برباد ہو جائیں گے مگر خدا کی پناہ میں نہیں آئیں گے، لیکن خدا تعالی با وجود ان کی ایسی سرکشی کے پھر بھی تمام کے تمام انسانوں کو ہلاک نہیں کرتا۔ نہ ان کی زلیت کے تمام سامانوں کو بلکل تباہ و برباد کر دیا ہے۔ بلکہ بہت سوں کو عبرت حاصل کرنے کے لیے زندہ رکھتا ہے۔ اور کچھ نہ کچھ سامان ان کی زیست کے پیدا کرتا رہتا ہے لیکن کیسا رونے کا مقام ہے کہ ایک بچہ جو نادان ہے۔ وہ تو اپنی دانائی کرتا ہے کہ جب کوئی خوف و خطرہ دیکھتا ہے تو اپنی ماں کی آغوش میں جاتا ہے، لیکن انسان دانا ہو کہ معہ ہو کر مصائب اور آرام کے اور آرام کے وقت دکھ اور تکالیف کے وقت خدا کی آغوش میں جانے سے انکار کر دیتا ہے اور جو خدا کی طرف بلاتا ہے اس پر منہی اور مسخر کرتا اسے احمق اور مجنون بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے خدا کی ضرورت نہیں۔ نادان کہنے کو تو کہ دیتا ہے کہ خدا کی ضرورت نہیں حالانکہ جس زبان سے وہ یہ بات کہتا ہے ۔ وہ بھی خدا ہی کی دی ہوتی ہے اور دوسری تمام چیزیں جن کی وجہ سے یہ خدا کو بھولا ہوا ہے وہ بھی سب خدا ہی کی دی ہوتی ہیں۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے ایک کمزور اور ناتواں انسان کسی کے کندھے ر ہاتھ کھڑا اور ساتھ ہی یہی ہے کہ تھے تمہارے سہارے کی ضرورت نہں حالانکہ اسکے سارے کے بغیروہ کھڑا نہ رہ سکے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنے سے بھاگنے والے سرکشوں اور اپنے دشمنوں کو بھی رزق پہنچا تا اور سہارا دیتا ہے اور یہ اس کی رحیمیت کا نشان ہے ۔ دیکھو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن خدا کے دشمن تھے۔ ابو جبل چونکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن تھا۔ اس لیے خدا کا بھی دشمن تھا۔ مگر خدا اس کو رزق دیتا تھا۔ کیوں اس لیے کہ آخر تھا تو اسی کا بندہ پس وہ لوگوں کو عذابوں میں ڈالتا ۔ مصائب میں جکڑتا ہے۔ اور تحطوں میں گرفتار کرتا ہے ۔ مگر ساتھ ہی ربوبیت بھی کرتا ہے ۔ تاکہ تمام کے تمام ہلاک نہ