خطبات محمود (جلد 6) — Page 12
۱۲ تو ہم نے تم پر احسان کیا کہ میں اسلام لانے کی توفیق بخشی ۔ اس لیے ہمارا حق ہے کہ ہم تم سے کچھ مانگیں نہ کہ یہ تمہارا احسان ہے کہ ایمان لاتے ہو۔ اور ہم سے مطالبہ کرتے ہو یہ تو ایسی ہی بات ہے جس طرح مشہور ہے کہ ایک شخص سخت دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا۔ کسی نے اسے کہا بھائی سایہ میں بیٹھے جا، وہ کہنے لگا اگر میں سایہ میں بیٹھوں توکیا دو گے توفرمایا کہ اگر مومن ہو تو اس طرح تمہارا مطالبہ باطل ہو جاتا ہے ۔ اور اگر سنتے ہو تو پھر ہمار تم یہ احسان ہے کہ ہم نے تمہیں اسلام کے قبول کرنے کی توفیق دی نہ کہ الٹا تمہارا احسان ہے ۔ اس وقت میں آپ لوگوں کو جو بیاں بیٹھے ہو اور جو باہر ہی بتلانا چاہتا ہوں کہ یہ بڑے دکھ اور رونے کا مقام ہے کہ اتنی آسانیوں اور سہولتوں کے باوجود ایمان کی کچھ قدر نہیں کی جاتی ہے حالانکہ اگر کوئی سب سے زیادہ قدر کے قابل چیز ہے ۔ تو وہ ایمان ہی ہے لیکن اس کی کچھ قدر نہیں کی جاتی بلکہ اسے ایک حقیر چیز سمجھا جاتا ہے۔ اسے ایک سودا سمجھا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ہم جو ایمان لاتے ہیں اس کا ہمیں کوئی بدلہ اور معاوضہ ملنا چاہتے بعض طبیعتوں یں کچھ خصوصیات ہوتی ہیں میری اپنی بیعت یہی ہے کہ میں اوربہت سی باتوں کو برداشت کر ایسی لیتا ہوں۔ اور بہت سے معاملات میں چشم پوشی سے کام لیتا ہوں مگر کسی کو ایمان کا سودا کرتے ہوتے دیکھ کر بالکل مجبور ہو جاتا ہوں اور مجھے سر سے لیکر پاؤں تک آگ سی لگ جاتی ہے میں سخت سے سخت مجرم کو معاف کرنے کے لیے تیار رہتا ہوں اور معاف کرتا ہوں ۔ مگر ایسا مجرم اگر اگر معافی بھی مانگتا ہے تو دل نہیں چاہتا کہ اسکی بات بھی سنوں ۔ ایسے کئی لوگ ٹھوکریں کھا کا کر آتے ہیں۔ اور کتےہیں کہ ہم سے غلطی ہوگئی معاف کر دیا جائے۔ مگر میراں معاف کرنے کی طرف آتا ہی نہیں۔ پس میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں اور درد دل سے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے ایمانوں کی حفاظت کرو کتی لوگوں میں اپنے ایمانوں کا سودا کرنے کی مرض پائی جاتی ہے اور انہیں ٹھوکریں لگ جاتی ہیں انہیں بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے ۔ اگر ایمان کے مقابلہ میں ہر چیز پر لات مارنے کے لیے تیارہ ہو تو یہ ایمان ہے۔ اور اگر ایسا نہیں تو کوئی ایمان نہیں۔ اور جو مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے اور اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینا چاہتا ہے لیکن وہ یاد رکھے کہ اللہ کبھی دھوکہ نہیں کھا سکتا ۔ پس جن کے دلوں میں کوئی کمزوری ہو وہ خوب سوچیں سمجھیں اور دیکھیں کہ ان کے اندر ایمان ہے یا نہیں ؟ اس سے زیادہ دکھ اور مصیبت اور کوئی نہ ہوگی کہ جس کو انہوں نے ایمان