خطبات محمود (جلد 6) — Page 116
114 پیار کرنے والے کو اپنے پاس پاتے جو اس پر ہزار جان سے قربان ہونے کے لیے تیار ہو، لیکن جس طرح پہلا شخص اصل حقیقت سے نا واقف ہو کر محض نفسانی خیالات اور وہمی نظاروں پر پھولا نہیں سماتا۔اسی طرح یہ اصلیت سے انجان رو کر ڈراؤنے نظاروں سے گھبرا اٹھتا۔اور کس کو اپنا یار و مددگار ہیں سمجھتا۔یہی حال دنیاوی معاملات میں بھی ہوتا ہے بہت لوگ اپنی ترقیات اور خواہشات اور کامیابیوں کے خیالات سے اچھلتے ہیں۔کامیابیوں کے سبز باغ ان کے پیش نظر ہوتے ہیں۔اور وہ اس حالت میں چھوٹے نہیں سماتے۔حالانکہ ہلاکت ان کے پاس کھڑی ہوتی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے کامیاب ہو رہے ہیں اور ابھی سارا مقصد حاصل کر لیں گے مگر خدا کے فرشتے کہتے ہیں کہ تم شکست کے گڑھے میں گر رہے ہو۔اور ان کے بالمقابل بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی دنیا میں تمام توقعات قطع ہو چکی ہوتی ہیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارا کوئی ہمدرد اور غمگسار نہیں ہم تباہ و برباد ہو گئے ہیں اور ہمارے بچنے کا کوئی طریق نہیں، لیکن ایک امید کا رستہ ان کے لیے کھول دیا جاتا ہے اور وہ خوشی کی جھلک دیکھتے ہیں۔جو خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔کیونکہ جب انسان سب سے قطع ہو کر خدا کی طرف دیکھتا ہے۔تو خدا کہتا ہے کہ میں تیری مدد و نصرت کو موجود ہوں میں تجھے تباہ نہیں ہونے دونگا۔تو ایک شخص خواب میں ڈوب رہا ہوتا ہے۔اور نہیں جانتا کہ میرے بچاؤ کی کوئی صورت ہے حالانکہ ممکن ہے کہ اس کا کوئی شفیق اسے گود میں لیے بیٹھا ہو۔اور جس طرح ایک شخص خواب میں عمدہ نظارہ دیکھ کر بڑا خوش ہو رہا ہوتا ہے۔حالانکہ ہو سکتا ہے اس وقت اس کا دشمن اسے ہلاک کرنے کے لیے سرہانے کھڑا ہو۔اسی طرح وہ شخص جو خدا سے دُور ہوتا ہے سمجھتا ہے کہ میں کامیاب ہو جاؤنگا۔اور ہرقسم کے فوائد حاصل کر لونگا، لیکن تباہ و برباد ہو جاتا ہے اور وہ جو تباہی و بربادی کے وقت خدا کے حضور جھک جاتا ہے بچا لیا جاتا ہے۔کیونکہ خدا اپنے بندے کی مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے کیو ایک بچہ جب ڈراؤنی خواب دیکھ کر چیختا اور ملبلا اٹھتا ہے تو اسی وقت اس کی ماں بھا گئی ہوئی آتی ہے اور کہتی ہے میرے بجھے بجھے کیا ہوا اور پیار سے گود میں اٹھالیتی ہے۔وہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ میرے دشمن مجھے قتل کرنے کے لیے لئے جاتے ہیں۔حالانکہ اس وقت اس کی ماں اس پر جھکی ہوئی شفقت اور پیار سے پوچھ رہی ہوتی ہے کہ تجھے کیا ہوا۔تو کیوں روتا ہے۔اسی طرح انسان جب ہلاکتیں اور تباہیاں دیکھ کر گھرا اُٹھتا ہے اور اپنے سامنے موت ہی موت دیکھتا ہے۔تو اُس وقت خُدا اُس پر جھکا ہوا ہوتا ہے اور اس مال سے بھی زیادہ شفقت اور پیار کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ڈراؤنی خواب دیکھ کر رونے اور پھیلانے والا بچہ جب اُٹھتا ہے تو جلدی سے جلدی اپنی ماں کی گودمیں جانے کی کوشش کرتا ہے اور جب