خطبات محمود (جلد 6) — Page 113
جس سے خدا کی غیرت کو جوش آئے ۔ کہا جا سکتا ہے کہ بجاتے خدا کی تین صفات کے ذکر کرنے کے کیوں نہ صرف الدالناس کہ دیا کہ لفظہ الہ میں تینوں مراتب اور صفات بھی آجاتے مگر اگر صرف لفظ اللہ کو رکھا جاتا تو وہ بات پیدا نہ ہوتی جو اس تفصیل سے پیدا ہوتی ہے ۔ خدا رب ہے تو رب الناس کہہ کر گویا خدا کی غیرت کو جوش دلایا ہے کہ لوگوں کا رب تو یہ ہے پھر اور کوئی کس طرح رب ہو سکتا ہے۔ اسی طرح باتی دونوں صفات میں بھی خدا کی غیرت کو جوش میں لایا گیا ہے۔ اور یہ ایسی بات ہے کہ ہر شخص اس کو مشاہدہ کر سکتا ہے اور خدا تعالیٰ نے خود شرک کے متعلق کس قدر غیرت کا اظہار فرمایا ہے۔ اس لیے جہاں ٹھوکر لگنے کا خطرہ تھا ۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ایسی دعا تلقین کی۔ کہ جس سے خدا کی غیرت کو جوش آتے ۔ اور وہ اپنے بندوں کو تمام خطرات سے محفوظ رکھے، تو انسان کو ٹھوکروں سے بچنے کے لیے کسی چیز سے پناہ مانگنا چاہتے۔ فرمایا: مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ خناس کے وسوسوں سے۔ وسوسہ ڈالنے والے ہمیشہ ایسے طریق اختیار کرتے ہیں۔ جو بہت پوشیدہ ہوتے ہیں اور نہایت چالاکی سے کوئی بد عقیدگی ۔ اور بد عملی سکھا دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص اس دعا کوڑھے گا۔ اور خدا کی ربوبیت - ملکیت - الوہیت کو ذہن میں رکھے گا ۔ وہ ضرور ایسے وساوس سے بیچ جائیگا۔ وسوسہ انداز چپکے سے ایک شوشہ چھوڑ دیتے ہیں۔ اور کمزور آدمی کو ایسی جگہ سے پکڑتے ہیں کہ جہاں ان کا دار اثر کر سکے ۔ لدھیانہ میں ایک شخص میر عباس علی تھے ۔ وہ حضرت صاحب سے بہت خلوص رکھتے تھے حتی کہ ان کی موجودہ حالت کے متعلق حضرت صاحب کو الہام بھی ہوا تھا۔ لدھیانہ میں جب حضرت مسیح موعود اور محمد حسین کا مباحثہ ہوا تو میر عباس علی حضرت صاحب کا کوئی پیغام لے کر گئے۔ انکے مولوی محمد حسین وغیرہ مولویوں نے بڑے احترام اور عزت سے ہاتھ چوسے اور کہا آپ آلِ رسول ہیں آپ کی تو ہم بھی بیعت کر لیں ، لیکن یہ مغل کہاں سے آگیا ۔اگر کوئی مامور آتا تو سادات میں سے آنا چاہیئے تھا۔ پھر کچھ تصوف و صوفیاء کا ذکر شروع کر دیا ۔ میر صاحب کو صوفیا۔ سے بہت اعتقاد تھا۔ مولویوں نے کچھ ادھر اُدھر کے قصے بیان کر کے کہا کہ صوفیا۔ تو اس قسم کے عجوبے دکھایا کرتے تھے ۔ اگر مرزا صاحب میں بھی کچھ ہے تو کوئی عجوبہ دکھلائیں ۔ ہم آج ہی ان کو مان لیں گے مثلاً وہ کوئی سانپ پکڑ کر دکھا ئیں ۔ یا اور کوئی اسی قسم کی بات کریں۔ میر عباس علی کے دل میں یہ بات بیٹھے گئی۔ اور جب حضرت صاحب کے پاس آئے تو کہا کہ حضور اگر کوئی کرامت دکھائیں تو سب مولوی مان لینگے۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ جب کرامت کا لفظ اُن کی زبان سے نکلا تو اسی وقت مجھے یقین ہو گیا 7