خطبات محمود (جلد 6) — Page 108
20 وسواس الخناس سے بچنے کا طریقہ فرموده به راکتو بر شانه ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد یہ سورہ پڑھی :- قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ * إِلَهِ النَّاسِ * مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الخَنَّاسِ ، الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ وَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ۔ اور فرمایا :- رسورة الناس ) انسان کے لیے جہاں ترقی اور کامیابی کی راہیں کھلی ہیں وہاں بہت سے سامان اس کی ہلاکت کے بھی ہیں اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ انسان ترقی کرتے کرتے اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تعالی اس کا محب نہیں اور دوست ہو جاتا ہے۔ وہ خدا کے حضور ایسے مقام پر کھڑا کیا جاتا ہے کہ اس پر وار کرنے والا اس پر وار کرنے کی بجائے خدا پر وار کرنے والا قرار دیا جاتا ہے ۔ خدا تعالیٰ اس کے اندر ہوتا ہے ۔ باہر ہوتا ہے ۔ آگے ہوتا ہے پیچھے ہوتا ہے۔ اوپر ہوتا ہے۔ غرض ہر طرف سے وہ خدا کی پناہ میں ہوتا ہے ۔ اس لیے جب وار کرنے والا اس پر وار کرتا ہے تو اس کا وار اس پر پڑنے کی بجائے خدا کی کسی نہ کسی صفت پر پڑتا ہے پس وہ ایسے مقام پر ہوتا ہے کہ خدا کی صفات کا مظہر ہو جاتا ہے اور بعض لوگ دھو کہ میں پڑ کر اُسے خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ مگر با وجود اس کے اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ جب انسان گرتا ہے تو انسانوں سے ہی نہیں ۔ بلکہ کسی وقت کتوں ۔ سوروں ۔ گدھوں ۔ ریچھوں اور بندروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے اور کہ تا ہے اور کسی وقت نجاست کے کپڑوں سے بھی پلید تر ہو جاتا ہے۔ ترقی کرتا ہے تو اس مقام پر پہنچتا ہے۔ جس پر فرشتے بھی نہیں پہنچ سکتے اور اگر گرتا ہے تو ایسا کرتا ہے کہ ذلیل سے ذلیل مخلوق سے بھی بدتر ہو جاتا ہے ۔ ایک بزرگ کا واقعہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک صوفی تھے وہ پہاڑ پر رہتے تھے ۔