خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 106

1۔4 میں رکھا گیا ہے۔ سورہ فاتح میں اللہ تعالیٰ نے تعریف کی طرف توجہ دلائی ہے۔ تعریف کبھی تو افعال کا نتیجہ ہوتی ہے یعنی اچھے کام اس لیے کہتے جاتے ہیں کہ لوگ تعریف کریں اور بھی اچھے کام تو کئے جاتے ہیں مگران میں یہ خواہش نہیں ہوتی کہ لوگ تعریف کریں گے مگر چونک وہ کام اچھے ہی ہوتے ہیں بغیران کی خواہش کے بھی لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں ۔ مثلاً کوئی شخص ڈوبتے کو بچاتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ لوگ اس کے اس فعل کی تعریف کریں ۔ تو خواہش تو اس کی پوری ہو جائیگی ۔ گو یہ تعریف کچھ اچھی تعریف نہیں ہوگی مگر ایک دوسرا ہے جو کسی کو ڈر بنا دیکھتا ہے اور وہ اس کو بچانے کے لیے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال دیتا ہے مگر اس کی کوئی خواہش نہیں ہوتی کہ لوگ اس کی تعریف کریں، یا کوئی شخص غرباء میں رو پلاس لیے تقسیم کرتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں اور دوسرا وہ ہے جو بغیر تعریف کی خواہش کے غرباء میں تومیر تقسیم کرتا ہے ۔ تو ان میں ایک کا فعل محمود ہوگا۔ دوسرے کا مذموم - پیس انسان تعریف کے لیے کوشش کرتا ہے بھی تو وہ تعریف مذموم ہوتی ہے کبھی محمود۔ پھر کبھی وہ تعریف مدرج ہوتی ہے کبھی حمد حقیقی خوشی انسان کو اگر حاصل ہوسکتی ہے تو حد ہی ہو سکتی ہے میں ورنہ مذرح میں تو شرمندہ بھی ہونا پڑتا ہے۔ اللہ تعالی قرآن کریم می فرماتا ہے الحمد للہ رب العالمین تعریف کے حصول کے لیے تم دنیا میں بہت بہت کوششیں کرتے ہو مگر جس رنگ میں بھی تمہاری کوششیں ہوں ان کا نتیجہ ممکن ہے۔ حمد نہ ہو اور جو تعریف حاصل ہو وہ ندموم ہو سچی تعریف کے حصول کا ذراقیہ ہم تمہیں بتاتے ہیں ۔ فرمایا :- الحمد لله رب العالمین ۔ (1) سب سچی تعریفیں خدا کے لیے ہیں۔ (۲) بچی تعریفیں خدا سے آتی ہیں۔ جو تعریف خدا کی طرف سے نہ ہو وہ حمد نہیں ہو سکتی ۔ سب حدیں اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ پس ایک ہی ذریعہ ہے جس سے تم سچی تعریف اور حمد حاصل کر سکتے ہو، وہ یہ کہ جس کے پاس سچی تعریفیں ہیں جس کے قبضہ میں تمام حمدیں ہیں۔ اسی سے مانگو جس کے پاس ہو گا رہی کچھ دیگا۔ جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوگا وہ کیا دیگا۔ پس تمام خوبیاں تمام سیچی تعریفیں تو خدا کے پاس ہیں کیوں نه انسان اس سے مانگے تاکہ اس کو دیا جائے ۔ جو لوگ خدا کو چھوڑ کر اوروں سے مانگتے ہیں ۔ ان کو کچھ نہیں مل سکتا۔ کیونکہ سچی تعریفیں تو خدا کے سوا کسی کے پاس نہیں ہیں ۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کسی شخص کو جوتے کی ضرورت ہو تو قصائی کے پاس چلا جاتے اور گوشت کی ضرورت ہو تو ہزار کے پاس یا زمیندار کے پاس چلا جاتے۔ ان سے اس کو کچھ نہیں ملے گا۔ وہ اس کو پاگل شمار کریں گے اور منتہی میں اُڑاتے رہیں گے ۔