خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 104

۱۰۴ کہ بادشاہ گذرتے ہوئے یونسی کسی کو روپے دے دیتے یا کوئی البیا طریق ایجاد کرتے جس سے عام لوگوں میں ان کے عدل و انصاف کی خاص شہرت ہو۔ اور ان کی تعریف کی جائے ۔ غرض ایسے ایسے طریقے اختیار کئے جاتے تھے کہ عوام الناس میں جو ان کے حالات سے واقف نہیں ہوتے تھے۔ ان کی تعریفیں ہوتیں۔ چاہے دوسرے وقت میں وہی بادشاہ لوگوں کے مال بھی حکم سے چھین لیتے ۔ غرض تعریف ایسی چیز ہے کہ اس کی بادشاہوں کو بھی احتیاج ہے۔ اسی لیے مشہور ہے کہ بادشاہوں کے دربار میں خوشامدی بھر سے ہوتے ہیں۔ تعریف ایسی چیز ہے کہ بادشاہ غلاموں کے غلام ہو جاتے ہیں۔ اور یہ خواہش جنون کے طور پر لوگوں میں پھیلی ہوتی ہے۔ مثل مشہور ہے ۔ خدا جانے کہاں تک سچ ہے، لیکن تمثیلی طور پر اس خواہش کا نقشہ کھینچا ہے۔ جو انسانوں میں ہوتی ہے کہ ان کی تعریف کی جائے۔ اور بعض دفعہ یہ خواہش جنون کی حد تک پہنچ جاتی ہے کہتے ہیں۔ ایک عورت تھی اس نے ایک نہایت اعلی درجہ کی انگوٹھی بہت قیمت صرف کر کے بنوائی ۔ خواہش یہ تھی کہ لوگوں میں اس کا چرچا ہوگا کئی نوں تک وہ پہنے رہی۔ مگر کسی نے ادھر توجہ نہ کی ۔ اس نے اس انگلی کے ساتھ اشارے بھی کئے مگر اتفاق کی بات ہے ۔ تب بھی ادھر کسی کی توجہ نہ گئی ۔ جب کسی نے بھی توجہ نہ کی تو اس عورت نے دل میں سوچا کہ کوئی ایسا طریق اختیار کرنا چاہتے جس سے لوگ اس انگوٹھی کو دیکھنے کے لیے مجبور ہو جائیں۔ یہ سوچ کر اس نے رات کے وقت اپنے گھر میں آگ لگادی ۔ لوگوں کے آنے میں ہوئی دیر ۔ گھر سارے نے کا سارا جل گیا۔ عورتیں آئیں اور پوچھا میں کچھ بچا بھی۔ اس نے جواب دیا بہن صرف یہ انگوٹھی بچی ہے ۔ عورتوں کی طبیعت ایسی ہوتی ہے کہ زیورات کو بہت پسند کرتی ہیں۔ کسی عورت نے کہا بہن یہ انگوٹھی تو بہت خوبصورت ہے۔ کب بنوائی۔ انگوٹھی والی نے سر پیٹ کر کہا کہ اگر تو پہلے پوچھتی تو میرا گھر کیوں جلتا ۔ غالباً یہ قصہ جھوٹا ہے۔ مگر مطلب اس کا یہ ہے کہ تعریف حاصل کرنے کی خواہش لوگوں میں بعض دفعہ یہاں تک ترقی کر جاتی ہے کہ وہ گھر بار ٹھونک دیتے ہیں پس تعریف حاصل کرنے کے لیے لوگ کسی چیز کے قربان کرنے سے بھی پر ہیز نہیں کرتے ۔ تعریفیں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ بعض سیتی بعض جھوٹی ۔ گورنمنٹ بعض لوگوں کو خطاب دیتی ہے خان بہادر " ان خطاب یافتوں میں سے گئی تو ایسے ہوتے ہیں کہ واقعی خان بہادر ہی ہوتے ہیں لیکن کئی ایسے بھی ہوتےہیں کہ نہ وہ فی الواقع "خان" ہوتے ہیں نہ بہادر بلکہ نہایت درجہ کے بزدل ہوتے ہیں، لیکن اگر