خطبات محمود (جلد 6) — Page 90
که جومل بھی کیا جائے ہمیشہ کیا جائے کیونکہ نجات زیادہ عملوں سے نہیں ہوگی۔بلکہ خدا کے فضل سے ہوگی۔یہاں سوال ہو سکتا ہے کہ اگر ملوں سے نجات نہیں ہوگی تو پھر اعمال کی ضرورت ہی کیا ہے۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہتے کہ نجات تو خُدا کے فضل سے ہی ہوگی۔ہمارے وہ عمل جو ہم نے ہمیشہ اخلاص سے کئے ہونگے۔وہ خُدا کے فضل کے جاذب ہونگے کیونکہ انسان کے اتنے عمل نہیں ہوتے جتنے خدا کے فضل ہوتے ہیں۔رسول کریم نے جو فرمایا کہ میری نجات بھی اعمال سے نہیں بلکہ خدا کے فضل سے ہی ہوگی لیے یہ درست ہے کیونکہ رسول کریم کے عملوں کے مقابلہ میں خدا کے فضلوں کو دیکھا جاتے جو آپ پر ہوئے۔تو آپ پر خدا کے فضل بہت ہی زیادہ ہیں۔میرے نزدیک کسی نبی نے وہ کام نہیں کئے جو آنحضرت نے کئے اور اگر تمام انبیاء کے اعمال کو مجموعی حیثیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کے مقابلہ میں رکھا جائے تو بھی آپ کے اعمال کا مقابلہ نہیں کر سکتے ، لیکن باوجود اس کے اگر خدا کے ان احسانات کو دیکھا جائے جو خدا نے آپ پر کئے۔تو اس میں بھی کوئی شک نہیں وہ بھی بہت بڑے ہیں ایسی حقیقت یہ ہے کہ محمد رسول اللہ بھی اپنے اعمال سے نجات نہیں پائیں گے۔بلکہ خدا کے فضل سے ہی پائیں گے۔ایک شاعر کا یہ شعر مجھے بہت ہی پسند ہے۔کہتا ہے۔جان دی۔دی ہوئی اُسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا کہ ہم نے اگر خدا کے لیے جان بھی دیدی تو کیا ہوا سچ پوچھو کچھ بھی نہیں دیا۔کیونکہ جان بھی اس کی دی ہوئی تھی۔ایک شخص کروڑوں روپیہ کسی کو دیا ہے اگر لینے والا سارے کا سارا دینے والے کو دیدے تب بھی گویا اس نے کچھ نہیں دیا۔تو انسان جو کچھ بھی خدا کی راہ میں قربان کرے اور جس قدر بھی اعمال بجا لاتے۔وہ سب کچھ خدا کے دیتے ہوتے انعامات کے ذریعہ کریگا۔اس لیے اس کا حق کہاں ادا ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ عملوں سے نجات نہیں ہوگی۔بلکہ خدا کے فضل سے ہوگی۔آریوں کو اس بات سے دھو کہ لگا ہے اور ان کا ایک بڑا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ محدد و اعمال کے نتیجہ میں غیر محدود نجات نہیں مل سکتی۔اس کا جواب حضرت مسیح موعود نے نہایت ہی عمدہ دیا ہے۔فرمایا۔انسان اپنے اعمال کو خود محدود نہیں کرتا۔اس کا تو ہی ارادہ ہوتا ہے کہ ہمیشہ خدا کی اطاعت عبادت میں ہی لگا ر ہوں، لیکن چونکہ خداوند اسے موت دیدیا ہے۔اس لیے وہ اور اعمال نہیں کر سکتا اور اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔بلکہ وہ غیر محدود نجات کا مستحق ہے کیونکہ اس کے اعمال اگر چہ محدود ہیں۔مگر چونکہ اس کا ارادہ اعمال تو غیر محدود تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ جزا بھی غیر محدود دیتا ہے۔جو بخاری کتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل