خطبات محمود (جلد 6) — Page 87
AL اس لیے اس کے یعنی ہیں کہ جب تک وہ کام ختم نہ ہو اس وقت تک اس کو نہیں چھوڑتے۔بہت سے اعمال ایسے ہیں کہ ان کا ہمیشہ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔بلکہ ایک حد تک پہنچ کر ختم ہو جاتے ہیں مثلاً کڑاتی ہے جب تک وہ ختم نہ ہو اس وقت تک اس میں استقامت کے ساتھ لڑنے کی ضرورت ہے۔یہ ضروری نہیں کہ تمام عمر لڑائی جاری رکھی جائے تو استقامت کا یہ مطلب و مقصد ہے کہ جب تک کام کو انجام انگ پہنچانے کی ضرورت ہو اُس وقت تک کام کیا جائے۔پس اللہ تعالیٰ کے احکام میں استقامت یہی ہے کہ اس کی اطاعت میں لگ جاتے اور اس وقت تک لگا ر ہے اور اس کو اس وقت تک برابر جاری رکھے جب تک کہ وہ کام خاتمہ پر نہ پہنچ جاتے۔جو لوگ ایسا کرتے ہیں۔ان پر اللہ تعالے کے ملائکہ کا نزول ہوتا ہے۔وہ اولیاء اللہ میں شامل ہو جاتے ہیں۔بزرگوں کا یہ مشہور قول ہے کہ الاستقامة فوق الكرامة كرامت سے بڑی چیز استقامت ہے۔واقعہ میں استقامت معمولی چیز نہیں۔بلکہ کرامت سے فوقیت رکھتی ہے کرامت ایک اصطلاح بتائی گئی تھی۔انبیا کے خوارق و نشانات کو معجزات کہتے تھے اور اولیا۔کے نشانات کو کرامات، ان کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک انسان استقامت سے خدا کی عبادت میں مصروف رہیگا تب ہی وہ اس مقام پر پہنچ سکے گا کہ کرامت دکھاتے ورنہ نہیں۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ربنا اللہ کہنے والے جب خدا کی عبادت میں ثابت قدم رہتے ہیں اور اُن کے قدم لڑکھڑاتے نہیں تو پھر ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہمیں تمہاری مدد و نصرت کے لیے خدا نے بھیجا ہے اگر ساری دنیا تمہاری دشمن ہوگئی تو بھی کچھ پر وامت کرو۔کیونکہ وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔پس دنیا میں استقامت سے انسان وہ کچھ کر لیتا ہے جس کا سمجھ میں آنا ناممکن ہے۔دیکھو یہی دریا جو ہمیشہ چلتے رہتے ہیں ہزاروں اور لاکھوں من مٹی روزانہ سمندر میں ڈالتے ہیں۔دریائے ٹیمز جو لنڈن کے نیچے بہتا ہے اگر ہمارے یہاں ہو تو ایک نالہ سمجھا جائے اس کے متعلق محققین نے فیصلہ کیا ہے کہ دنیا کے تمام دریاؤں سے تھوڑی مٹی کاٹتا ہے پھر بھی روزانہ چار ہزار من مٹی سمندر میں لیجاتا ہے۔اسی طرح لوگوں نے ایک قصہ شور کر رکھا ہے اصل میں ایک مستقل مزاج اور دوسرے شست الوجود انسان کی حالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہتے ہیں۔ایک کچھوے اور خرگوش میں شرط لگی کہ کون پہلے ایک خاص ٹیلے پر پہنچتا ہے۔خرگوش ابتداء میں تیزی سے دوڑ کر کچھوے سے آگے نکل گیا اور یہ خیال