خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 80

ہم میں اور غیر مانعین میں جو جھگڑا ہے۔وہ بھی آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کے اس قول سے فصیل ہو جاتا ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی نبوت سے علیحدہ کوئی نبوت نہیں ہے۔پس جس طرح خدا کی وحدانیت پر اسی وقت ایمان لایا جا سکتا ہے، جبکہ خدا کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا جاتے۔اسی طرح محمد رسول اللہ کی رسالت کو اسی وقت مانا جا سکتا ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کی نبوت پر ایمان ہو۔والا نہیں۔تو اسلام کا خلاصہ اللہ تعالے سے تعلق ہے۔باقی نفس کی اصلاح اور شفقت علی خلق اللہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے ساتھ اتحاد ہونے میں آجاتی ہیں۔اس کے لیے جو بھی مشکلات اور روکاوٹیں ہوں نہیں دیکھنا چاہیئے۔ان کے رفع کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔اگر کسی میں طہارتِ نفس اور شفقت علی اللہ نہیں تو اس کا اتحاد باللہ کا دعویٰ غلط ہے۔خدا کے ساتھ محبت کا تعلق ایک تو خود اپنے نفس سے ہے جو طہارت نفس کہلاتا ہے اور دوسرا اپنے سے غیر کے ساتھ جو شفقت علی خلق اللہ ہے اگر ان دونوں میں سے کوئی نہیں تو اتحاد باللہ بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔عبادات۔امانتداری حکومت کے فرائض کی ادائیگی تعرض دنیا کے سب کام اس میں آجائینگے۔اور یہ اعراض ہو ہیں۔ان سب کے حصول کے لیے بڑی محنت اور کوشش کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جتنی سعی کی ضرورت ہے۔اتنی ہی احتیاط کی بھی ضرور ہے کیونکہ جسقدر کوئی کام اہم ہوتا ہے۔اسی قدر اس کے لیے احتیاط کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔مثلاً اگر ایک پیسہ کہیں ضائع ہو، تو اس کی چنداں پرواہ نہیں کرتا، لیکن جہاں اس کے بیٹے کی جان خطرہ میں ہو گی۔وہاں نہایت کوشش و احتیاط کو کام میں لائیگا۔چونکہ یہ کام بھی کوئی معمولی نہیں ہے۔اس لیے اس کے لیے معمولی احتیاط کی ضرورت نہیں۔بلکہ غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے۔کیونکہ جتنا عظیم الشان کام ہوتا ہے۔اتنی ہی بڑی بڑی روکیں اسکے رستہ میں حائل ہوتی ہیں جو مقصد آپ کے مدنظر ہے وہ چونکہ بہت ہی عظیم الشان ہے اس لیے اس مقصد کے حصول میں بڑی بڑی مشکلات بھی ہیں۔اور آپ جانتے ہیں کہ جتنا بلند مینار ہوگا۔اتنی ہی زیادہ محنت اس پر چڑھنے کے لیے بردا کرنی پڑیگی۔نہیں اس مقصد عظیم میں جو روکیں اور مشکلات ہیں۔ان کا دور کرنا آپ کے فرائض میں داخل ہے جس مقصد کے لیے آپ کھڑے ہوتے ہیں اس سے بڑا اور بہتر کوئی مقصد نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔یعنی خدائے واحد کو پاکیتا اور اس سے اتحاد حاصل کر لینا۔اس کے لیے جو مشکلات حائل ہوں ان کو دُور کرنے کے لیے بہت توجہ اور محنت کی ضرورت ہے۔خدا پر ایمان لانے کا دعوی تو