خطبات محمود (جلد 6) — Page 69
"" نبی کو اگر کوئی مارے تو حقیقت مشتبہ ہوسکتی ہے کیونکہ وہ تو انسان ہیں اور ماریں کھاتے ہیں۔لوگ انہیں ہر قسم کے دکھ دیتے ہیں اور ان دکھوں اور تکلیفوں کے ذریعہ ہی ان کی سچائی روشن ہو جاتی ہے ور یہ ان کی ترقی کا ذریعہ ہوجاتی ہے کیونکہ خداتعال اپنی تائید ونصرت سے دکھا دیتا ہے کہ وہ اس کی طرف سے ہیں۔مگر خدائی کا دعوی بے وقوفوں کے سوا کون کر سکتا ہے۔پھر یہ دعویٰ کرنے والے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو منہ سے ایسا دعوی کرتے ہیں۔دوسرے وہ جو عملاً کرتے ہیں حکومت و اقتدار کے لحاظ سے مال و دولت کے لحاظ سے علم وفن کے لحاظ سے کسی کو کوئی رتبہ ملتا ہے تو وہ اپنی ہستی سے باہر ہو جاتے ہیں۔وہ اس قسم کے دعوے عمل سے کرتے ہیں۔اور یہی دعوے آخر ان کی ذلت و نامرادی کا موجب ہو جاتے ہیں گو اسے اس وقت کوئی نہ سمجھے مگر حقیقی ترقی عبودیت میں ہے جس قدر انسان عبد بنتا ہے اسی قدر اس کی ترقی اور معرفت کے دروازے کھلتے جاتے ہیں کیونکہ اپنے علم اپنی ذات اپنی عقل اور تدبیر پر کوئی ناز نہیں ہوتا۔اس لیے اس کی کوشش ہمت اور تدبیریں سستی نہیں ہوتی اور خدا تعالیٰ اسے برکت دیتا ہے، لیکن جہاں کسی قوم نے خدائی کا دعوی کیا جو عملاً ہوتا ہے ، تو یہ دعوی اس کے تنزل کا پہلا قدم ہوتا ہے۔پھر وہ نیچے کرنے لگتی ہے۔گو اس کا یہ تنزل کسی کو نظر نہ آتا ہو، لیکن آخر ایک بار ہی ایسی گرتی ہے کہ پھر اس کی بربادی اور تنزل بالکل ظاہر ہو جاتا ہے۔برخلاف اس کے ترقی کرنے والی قوموں میں انکسار اور عبودیت ہوتی ہے۔اسی طرح ان کی ترقی کی رفتار بھی بہت دھیمی ہوتی ہے مگر آخر اس کی رفتار میں بھی نمایاں ترقی نظر آتی ہے۔یہ بالکل درست ہے کہ عملاً خدائی کا دعویٰ کرنے والی قوموں کا تنزل ابتدار نظر نہیں آتا۔مگر اس کے جراثیم پیدا ہوجاتے ہیں اور وہ نظر نہیں آتے جس طرح پر ایک مکان ٹپکتا ہو تو وہ نظر آتا ہے اور انسان اس کی مرمت کر کے بند کر دیتا ہے ، لیکن جب کسی مکان کی بنیاد میں اندر ہی اندر پائی پڑتا ہو اس کا پتہ نہیں لگتا۔اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ یکدم بیٹھ جاتا ہے۔اور یہ زیادہ خطر ناک ہوتا ہے ہیں ان لوگوں کی حالت جو عملاً خدائی کا دعوے کرتے ہیں اس مکان کی سی ہے جس کی بنیا دوں میں پانی پڑ رہا ہے۔اسی واسطے قرآن مجید میں جہاں سخت سزا کا ذکر ہے۔فرمایا ذاتی الله بنيانهم من القَوَاعِدِ (سورة النحل : ۲۷) پس انسان کبھی عبودیت سے باہر نہ جائے۔یہی نہ سمجھے کہ اس کے لیے کسی پابندی اور اطاعت کی ضرورت نہیں اور نہ کوئی اتباع ہے۔نہ فرمانبرداری ہے۔یہ ہلاکت کی راہ ہے۔اس سے بچو۔