خطبات محمود (جلد 6) — Page 579
069 (106) اے مرے اہل وفائت کبھی کام نہ ہو د فرموده ۳۱ دسمبر له ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا کہ :- میں اس نیت کے ساتھ خطبہ پڑھانے کے لیے کھڑا ہوا ہوں کہ جو دوست نماز جمعہ بیاں پڑھنے کے لیے شہر گئے ہیں وہ کچھ نہیں۔ورنہ صبح میری طبعیت خراب ہوگئی اور پسیوں میں درد ہو گیا تھا میں نماز کے بعد میں نمبر پربیٹھ جاؤنگا، احباب میں مصافحہ کرلیں مگر ہجوم نہ کریں۔اس کے بعد میں تمام دوستوں کو خواہ وہ باہر سے میاں آئے ہوں یا ہیں کے ہوں۔ایک بار پھر سوتو نار کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اس میں اللہ تعالی مومنین کو نصیحت کرتا ہے کہ مومن جہاں تمام دنیاوی معاملات میں صابر و شاکر ہوتا ہے، وہاں ایک معاملہ میں قطعاً صبر نہیں کرتا یا یوں کو کہ صبر کے کئی معنے ہیں۔اول کی مصیبت میں نہ گھبرانا دل میں جگہ پر ہو اس پر قائم رہنا (۳) جس چیز کو اختیار کرے اس کو نہ چھوڑتا۔گر اس جگہ صبر کے معنے یہ ہوئے کہ وہ ٹھر تانہیں آگے بڑھتا ہے۔فرمایا تم یہ کہو کہ اھدنا الصراط المستقیم ، خدایا میرے قدم کو آگے ہی آگے بڑھا۔احد نا کے معنے ہیں۔(۱) مجھے رستہ بارہ رستہ دیکھا (۳) سیدھے رستہ پر چلائے چل۔یہاں تینوں معنے درست ہیں، جو گمراہ ہیں۔اُن کی دُعا ہے کہ ہمیں سیدھا رستہ بتا۔بعض ہوتے ہیں کہ گاہ تو نہیں ہوتے۔مگر ڈرتے ہیں۔ان کے لیے کہا کہ رستہ دکھا دے۔تیسرے وہ لوگ ہیں جو اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں۔ان کی یہ دعا ہوتی ہے کہ تمہیں اس رستہ پر جس پر ہم ہیں چلاتے چل۔ہم کہیں ٹھہرنے نہ پائیں۔غرض یہ دُعا سب اعلیٰ و ادنی کے لیے ہے اور مومن دعاکرتا ہے کہ میں کسی ایک جگہ نہ ٹھہروں ، بلکہ آگے ہی آگے بڑھوں۔یہاں کا میابی سانس لینے میں نہیں اور خوب یاد رکھو کہ اس جہاں میں سانس لینا ہیں بلکہ مومن کے لیے سانس لینے کا وقت اگلا جہان ہے۔مومن کے سفر کی یہاں منزل نہیں۔یہاں اس کے لیے قیام کی جگہ نہیں ، وہ بڑھتا ہے اور بڑھتا چلا جاتا ہے جتنی کہ وہ یہاں سے چلا جاتا ہے۔