خطبات محمود (جلد 6) — Page 576
مہمان ہے آیا ہوں۔اس لیے بچوں کو سلا دو۔اور جب میں معان کو لاؤں۔تو کسی طرح چراغ گل کر دیا اور گھر میں روشنی کا سامان بھی نہ رکھا۔کیونکہ مان اکیلا کھانا نہیں کھائیگا۔اور مجھے بھی اس کے ساتھ کھانا پڑیگا۔چنانچہ جب مہمان اندر آیا۔تو چراغ کسی طرح گل کر دیا گیا۔صحابی نے مہمان سے معذرت کی کہ اب چراغ روشن نہیں کیا جا سکتا۔آپ اندھیرے میں ہی کھانا کھا لیں۔کھانا سامنے رکھا گیا۔صحابی یونی اندھیرے میں منہ سے آواز پیدا کرتے رہے گویا کھانا کھا رہے ہیں میں سے مہمان نے قیاس کیا کہ وہ بھی کھانا کھا رہے ہیں اور خود سیر ہو کر کھایا۔خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کویہ واقعہ الہام کے ذریعہ بتایا اور تعریف کی۔پس یہ ضروری نہیں۔کہ تم اگر اپنے مہمان کو چلاؤ نہیں کھلا سکتے تو ضرور پلاؤ ہی کھلاؤ۔بلکہ تمہارا صرف یہ فرض ہے کہ تم اسکو جو کچھ کھا سکتے ہو۔وہ کھلاؤ اور تمہارا وہی کچھ مہمان کے پیش کرنا خدا کے نزدیک قابل تعریف فعل ہوگا جس کی تمہیں استطاعت ہے۔پس انسان کا فرض اکرام ضیف کے مسئلہ میں یہ ہے کہ وہ اپنے مقدور بھر کوشش کرے۔یہ تو وہ باتیں ہیں جو انسان کے اختیار کی نہیں اور جلسہ پر آنے والے مہمانوں کے متعلق بھی بعض ایسی باتیں ہیں جو فی الحال ہماری استطاعت سے بڑھ کر ہیں۔مثلاً یہ کہ چاہتے کہ مہمان کے لیے جو جگہ ہو وہ فراغ ہو۔اچھی ہو۔اور اس کی ضروریات کے مطابق ہو۔مگر ہم اپنے مہمانوں کے لیے اتنی جگہ مہیا نہیں کر سکتے۔ہمارے گھروں میں ان دنوں میں کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ایک ایک مکان میں دس دس میں میں آدمی بھرے ہوتے ہیں۔یا ہمارے ملک کے لوگ چار پائی پر سونے کے عادی ہوتے ہیں۔مگر ہم اتنی چار پائیاں میتیا نہیں کر سکتے۔پھر یہ بھی کہ مہمان کے آگے اچھے سے اچھا کھانا رکھا جائے، لیکن ہم اس فرض کو بھی ادا نہیں کرسکتے۔ہماری موجودہ مالی حالت اس کی اجازت نہیں دیتی۔پس یہ وہ باتیں ہیں جو ہم نہیں کر سکتے۔اس لیے اس کی وجہ سے ہم پر کوئی الزام نہیں آتا ، مگر بعض باتیں ایسی ہیں جو ہم کرسکتے ہیں۔اگر ہم ان کونہیں کرتے تو سمجھا جائیگا کہ جو کچھ تم کرنہیں سکتے تھے۔اگر کر سکتے تو وہ بھی نہ کرتے۔ہ کیا باتیں ہیں جو ہم کرسکتےہیں یہ ہیں کہ ہم خوش اخلاقی سے پیش آئیں، اگر س کی کوئی چیز گم ہوگی ہو تو ہم اس کو تلاش کرنے میں مدد دیں۔یاکسی نے کسی جماعت سے ملنا ہے تو اس کا پتہ بتانا چاہتے۔یاکسی کوکسی منتظم سے ملنا ہے تو اسے ملائیں یاکسی کوحکیم کی اسی دکان کے معلوم کرنے کی ضرورت ہے، تو اس کی تلاش میں مدد دیں۔اگر تم ان باتوں کو کرو تو ہ جو نہیں کر سکتے۔ان کا بھی ثواب میںگا اورسمجھا جائیگا کہ اگر وہ چیزیں تمارے قبضہ میں ہوتیں تو تم کرتے اوراگر یہ نہ کرو تو پہ لگے گا کہ اگر تمہارے پاس دو چیزیں ہوتیں تو ان کو بھی نہ کرتے۔