خطبات محمود (جلد 6) — Page 551
اده ہیں۔یا بعض عدم گنجائش کا بہانہ کر بیٹھتے ہیں حالانکہ یہ کہنا ن کو جرم سے نہیں بچاتا کیونکہ جب قرض لگے تھے۔ضروری تھا کہ اس وقت حیثیت کو سوچتے نہ یہ کہ جب دینے کا وقت آیا۔اس وقت گنجائش کا سوال اٹھا یا کیپس جب قرض لینے گئے تھے اس وقت سوچنا تھا کہ ہم ادابھی کرسکیں گے یا نہیں۔مجھے قرآن کریم کی اس آیت پر ہمیشہ تعجب ہوا کرتا تھا کہ : ياتِهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاحْتُبُوهُ البقرہ (۲۸۳) اس میں مدت کی شرط لگاتی ہے۔اور اللہ تعالے نے سمجھایا کہ اس میں دو فائدے ہیں۔اول دینے والے کے لیے (۲) لینے والے کے لیے۔اول لینے والے کے لیے یہ فائدہ ہے کہ مثلاً مینہ کا وعدہ ہے۔تو مہینہ کے بعد جا کر طلب کریگا۔یہ نہیں ہوگا کہ اس کو روز روز پوچھنا پڑیگا، اورنیز بروز یہ بھی فائدہ ہوگا کہ جب مہینہ کا وعدہ ہو گا تو یہ حق نہیں ہوگا کہ دوسرے دن ہی مطالبہ شروع کر دے۔دوسرا فائدہ ہوگا کہ جب لینے والا لینے لگے گا۔تو پہلے سوچے گا کہ میں جتنے عرصہ میں ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہوں۔اتنے عرصہ میں ادا بھی کرسکوں گا کہ نہیں۔اگر کوئی شخص اپنی آمدنی پندرہ بیس روپیہ ماہوار رکھتا ہے۔اور ایک مہینہ کے وعدہ پر سو روپیہ قرض لیتا ہے۔تو سوال ہو گا کہ وہ کہاں سے ادا کرے گا۔اس لیے قرض دینے والا اس سے متنبہ ہو سکتا ہے۔ہاں اگر ایک زمیندار قرض لیتا ہے اور اس کی فصل اس کے قرض سے زیادہ یا برا بر ہے تو وہ لے سکتا ہے۔پس اس آیت میں یہ فوائد بتاتے ہیں۔اور اب ہر شخص کو سوچنا چاہیئے کہ وہ جو قرض لیتا ہے وہ اس کو ادا کر سکے گا یا نہیں۔اگر ہیں ادا کرسکے گا۔اور وہ قرض لیتا ہے تو یہ تنگی ہے بعض وہ لوگ جو کہتے ہیں گنجائش نہیں۔ان کو ثابت کرنا چاہیئے کہ جب وہ لینے لگے تھے۔اس وقت ان کو امید تھی کہ وہ قرض اتار سکیں گے۔مگر ناگہانی انسائیے ان ذرائع کو منقطع کر دیا۔اس لیے قرض اتارنا ممکن نہ رہا۔ورنہ گنجائش کا سوال بعد از وقت ہے۔اگر کوئی شخص قرض لے کر نفع اٹھاتا اور تجارت کرتا ہے۔اور قرض خواہ کو قرض نہیں دیتا تو ضروری ہے کہ اس سے روپیہ لیکر اس کو دیا جائے۔اگر وہ ہے کہ میری تجارت تباہ ہو گئی۔تو اس کا روپیہ تھا ہی نہیں کہ یہ تجارت کر سکتا۔اس نے جو نفع اٹھایا اس کو غنیمت سمجھنا چاہیئے۔جولوگ اس طرح قرض لیتے ہیں اور آپ نفع اٹھاتے ہیں اور مرض خواہ کو نہیں دیتے وہ نفع نہیں اٹھاتے وہ آگ سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔پس جو معاملہ کرو، دیانت سے کرو۔اور صفائی اس میں رکھو۔قرض دینے والے کو چاہیے کہ لکھ لے اور مدت مقرر کرے اس میں دونوں کے لیے فائدہ ہے۔