خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 468

ایک چھوٹا سا زینہ ہے۔جس پر ہم چڑھ کر مقصد پاسکتے ہیں اگر ہم اس سے فائدہ نہ اٹھائیں تو کتنے افسوس کی بات ہوگی۔اور اس کی ایسی ہی مثال ہو گی جیسا کہ مشہور ہے کہ سڑک پر ایک سپاہی چلا جارہا تھا۔اتنے میں اس کو آواز آئی۔کہ اے میاں سپاہی۔ادھر آنا۔جب وہ وہاں گیا۔تو آواز دینے والے نے کہا۔یہ بیر میری چھاتی پر پڑا ہے۔اسے اُٹھا کر میرے منہ میں ڈال دینا۔اس پر سپاہی بہت خفا ہوا کہ یہ کتنا سست آدمی ہے۔کہ خواہ مخواہ میرا وقت خراب کیا۔پاس ہی سے آواز آتی کہ ہاں میاں سپاہی واقعی یہ بہت سست ہے۔کتا رات بھر میرا منہ چاہتا رہا۔میں نے ہر چندا سے کہا کہ مٹا دو مگر اس نے نہ ہٹایا۔یہ تو ایک قصہ ہے لیکن ہم اس سے بھی سبق حاصل کر سکتے ہیں۔پس اگر ہم بھی اس وقت سست ہو جائیں اور ایسے آسان وقت میں انعامات الہی حاصل نہ کریں۔تو پھر ہم سے بڑا کون ہو گا۔بہت ہیں جو اس قصہ پر ہنستے ہیں، لیکن اگر وہ بھی مست ہو جائیں تو وہ ان سے بھی بدتر ہ جائینگے جیا کہ قتہ میں ذکر ہے۔کیونکہ ہمارے لیے خدا کی طرف سے بہت آسانیاں کردی گئی ہیں اور خدا نے خود تمام کام کرنے کا ارادہ کیا ہے۔اور نعمت کو اس قدر قریب کر دیا ہے کہ ہم اگر اب بھی اس کے لینے کے لیے ہاتھ نہ بڑھائیں۔تو ہم سے بڑا اور مست کون ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی سمجھ دے کہ ہم اس کے عطا فرماتے ہوئے سامانوں سے فائدہ اٹھائیں اور مفت میں کہوں گا کر شہیدوں میں میں کم از کم نام شہیدوں کا پائیں۔شہیدوں کا نام تو مل جائے گا۔کیونکہ کام تو خدا ہی کریگا اور کر رہا ہے" الفضل یکم جولائی (-19)