خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 454

۴۵۴ 84 سيد السيستم اعتصام بحبل اللہ فرموده ۲۸ متی ۹۲) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں نے پچھلے جمعوں میں دو باتیں اتحاد کے متعلق اصول اور گر کے طور پر قرآن کریم سے بیان کی ہیں۔جن کو مد نظر رکھنے سے اتحاد کی بنیاد مضبوط ہو سکتی ہے۔اور اختلاف مٹ سکتا ہے۔آج میں تیسرا گر جو قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔بیان کرتا ہوں پہلی دونوں باتیں حکمت کی باتیں ہیں جن میں سے پہلی یہ ہے کہ انسان کو کبھی اس طرح مامون نہیں ہونا چاہیئے کہ وہ خیال کرے کہ وہ خطرے سے محفوظ ہے مومن کی علامت ہے کہ وہ خطرے سے محفوظ ہو، لیکن پھر بھی اپنے کو خطرے سے محفوظ نہ سمجھے جب تک یہ نہ ہو مومن نہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ اختلاف کو دور کرنے کے لیے اختلاف کا جو تسلیم کرنا ضروری ہے یعنی ی تسلیم کر لیا جائے کہ اختلاف رہے گا۔آج میں تیسری بات بیان کرتا ہوں جس کے متعلق قرآن کریم سے ہی استدلال ہوتا ہے۔اگرچہ وہ چھوٹی سی بات سمجھی جائیگی۔مگر بہت سی چھوٹی باتیں اپنے نتائج کے لحاظ سے بڑی ہوتی ہیں۔وہ اصل یہ ہے کہ ہر معامہ میں موازنہ کیا جائے۔اور جو چیز جتنی ہو اس کو اتنا ہی درجہ دیا جائے۔عام طور پر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ ایک بات کو سمجھتے ہیں۔مگر حقیقت میں نہیں سمجھتے۔ہندسوں میں چھوٹے بڑے کو خوب سمجھتے ہیں۔کوئی نہیں جو دو کو چھوٹا اور ایک کو بڑا کے، لیکن تعداد کو اگر جانے دیں تو عام طور پر لوگ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو لیتے اور بڑی کو ترک کرتے ہیں۔قرآن کریم نے شرع کی بنیاد بھی اس امر پر رکھی ہے۔کہ وہ چیز اختیار کرو جس میں نفع زیادہ اور نقصان کم ہو۔یہ کہنا کہ کوئی چیز مطلق نقصان دہ ہے