خطبات محمود (جلد 6) — Page 426
تعلق رکھنا اور اس کو اپنے ساتھ رکھنا اصل بات ہے۔زور اور طاقت والے تو خود بخود ساتھ ہو جاتے ہیں پس تم اپنے نفسوں میں تبدیلی پیدا کرو تاکہ فلاح پاؤ۔احمدیت کے صرف نام میں کوئی ایسی تاثیر ہیں کہ پھر کسی اصلاح کی ضرورت نہیں رہ جاتی جب محمدیت نے لوگوں کو نہیں بچایا۔تو احمدیت کہاں بچا سکتی ہے۔جب آقا کا نام لینے والے تباہی سے نہیں بچ سکے۔تو غلام کا نام لینے والے کیونکر بیچ سکتے ہیں۔اصل چیز ایمان ہے۔اور ایمان ہی کام آنے والا ہے جس میں خلوص محبت اور تقویٰ ہو۔اگر خدا تعالیٰ سے محبت ہو تو اس کے بندوں سے محبت کئے بغیر انسان رہ ہی نہیں سکتا کیونکہ جس سے محبت ہوتی ہے۔اس کی ہر ایک چیز پیاری لگتی ہے۔میں نے دیکھا ہے۔جن کو حضرت صاحب سے محبت ہے۔وہ ان جگہوں میں خاص طور پر جاتے ہیں جہاں حضرت صاحب کبھی بیٹھے۔امرت سر میں ایک حجام تھے۔انھوں نے حضرت صاحب کے بال اور ناخن رکھے ہوتے تھے۔ایک دفعہ میں امرت سر گیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے پاس حضرت کے بال اور ناخن ہیں۔ہمیں کنکر چپ رہا۔اس پر انہوں نے غصہ سے لال لال آنکھیں نکال کر کہا۔میں نے حضرت صاحب کے تبرکات کا ذکر کیا ہے۔مگر اس نے یہ نہیں کہا کہ مجھے دکھاؤ۔یہ وہ محبت تھی جو محبوب سے تعلق رکھنے والی چیزوں سے ہوتی ہے توجو خدا تعالیٰ سے محبت رکھتا ہے۔وہ خدا کی مخلوق سے بھی محبت رکھتا ہے اور جس کے دل میں خدا کی محبت ہو۔اس میں کسی کی دشمنی جاگزیں نہیں ہو سکتی۔میں فخر کے طور پر نہیں۔بلکہ آپ لوگوں کو تحریں دلانے کے لیے کہتا ہوں کہ ہمارے سلسلہ کا سب سے بڑا دشمن شناء اللہ ہے۔مجھے اس سے بھی محبت ہی ہے۔میں تو سمجھتا ہوں۔میں کسی سے شمنی کے لیے پیدا ہی نہیں کیا گیا۔بلکہ ہر ایک کے ساتھ محبت کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہوں۔پس آپ لوگوں کو چاہیتے کہ ایک دوسرے سے محبت اور پیار کا ہی سلوک کرو۔اگر تم کس کو اپنی طرف کھینچنا چاہتے ہو تو محبت سے ہی کھینچ سکوگے۔ورنہ تم کیا اور تمہاری حقیقت کیا ؟ رسول کریم صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق خدا تعالی فرماتا ہے۔اگر یہ لوگوں سے اچھا سلوک نہ کرے اور ان سے سختی کے ساتھ پیش آئے تو لوگ اس سے بھاگ جاتیں لیے پس انبیاء کے پاس بھی لوگ اسی لیے جمع ہوتے ہیں کہ وہ محبت سے انہیں کھینچتے ہیں۔اور جتنا کسی میں پیار اور محبت کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے اتنا ہی وہ لوگوں کو زیادہ اپنی طرف کھینچتا ہے پس جس میں تم کوئی غلطی کمزوری اور نقص دیکھو۔اس کو چھوڑ نہ له سورة ال عمران :۱۶