خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 42

ہے، لیکن نتائج کے لحاظ سے بہت چھوٹی ثابت ہو جاتی ہے۔بات اصل میں یہ ہے کہ چھوٹی یا بڑی چیز کا لحاظ اس کے نتائج پر ہوتا ہے ایک ایسی چیز جو بظاہر چھوٹی نظر آتی ہے، لیکن اس کے نتائج بہت بڑے نکلتے ہیں وہ چھوٹی نہیں بلکہ بڑی ہے۔اسی طرح ایک ایسی چیز جو بظاہر بڑی نظر آتی ہے لیکن اس کے نتائج بہت معمولی نکلتے ہیں وہ بڑی نہیں بلکہ چھوٹی ہے۔مگر نادان انسان ان کے ظاہر کو دیکھ کر بڑی چھوٹی قرار دے لیتا ہے جو بالکل غلط اور نا درست ہے کیونکہ نتائج کو دیکھے بغیر ایسانہیں کرنا چاہیئے۔اسی طرح کئی لوگ اعمال کے ظاہر کو دیکھ کران کو چھوٹا بڑا فرار دے لیتے ہیں۔حالانکہ اعمال کے چھوٹے بڑے ہونے کے اور ہی معنے ہیں جو عام طور پر لوگ نہیں سمجھتے۔دیکھو کرنے یا نہ کرنے کے لحاظ سے چھوٹی بات بڑے اور بڑی چھوٹے نتائج پیدا کیا کرتی ہے۔اس لیے اعمال کے لیے ضروری ہے کہ کسی کو چھوٹا نہ سمجھے۔ایک ہی بات ہوتی ہے جو ایک کے لیے چھوٹی مگر دوسرے کے لیے بڑی ہوتی ہے۔یات یہ ہے کہ دنیا میں بعض لوگ لا ابالی طبیعت کے ہوتے ہیں اور بعض بُزدل اور سُست ان دونوں قسم کی طبیعتوں کے لحاظ سے چھوٹی بات بڑی اور بڑی چھوٹی ہو جاتی ہے وہ لوگ جولا ابالی طبیعت رکھتے ہیں ان کے لیے وہ چیزیں جنہیں دنیا چھوٹی سمجھتی ہے بڑی ہوتی ہیں اور جن کو دنیا چھوٹی سمجھتی ہے بڑی ہوتی ہیں اور جن کو دنیا میں بڑا سمجھا جاتا ہے وہ ان کے لیے چھوٹی۔اس کے برعکس وہ لوگ جو گست اور کسلمند ہوتے ہیں ان کے لیے وہ اشیاء جنکو بڑا کہا جاتا ہے بڑی ہوتی ہیں اور جن کو چھوٹا کہا جاتا ہے وہ چھوٹی۔تو در حقیقت بڑی اور چھوٹی چیزیں انسان کے اعمال کے لحاظ سے ہوتی ہیں۔یعنی جس کو انسان کر سکے وہ چھوٹی اور جس کو نہ کر سکے یا مشکل سے کر سکے وہ بڑی ہوتی ہے مثلاً ایک چیز ایک انچ زمین پر پڑی ہو اور دوسری دس انچ زمین پر اب ایک انچ جگہ گھیرنے والی چیز ہلکی ہوگی اور دس انچ جگہ گھیرنے والی بھاری، لیکن اُٹھانے کے لحاظ سے ایک انچ والی بڑی ہو جائے گی اور دس انچ والی چھوٹی کیونکہ دس انچ والی کی نسبت ایک انچ والی زیادہ مشکل اور محنت سے اُٹھائی جائے گی۔تو بڑی چھوٹی چیز انسان کی اپنی طاقت اور ہمت کے لحاظ سے ہوتی ہے۔اسی وجہ سے وہ لوگ جو لا ابالی طبیعت کے ہوتے ہیں گو دلیر اور بہا دور ہوتے ہیں مگر بعض باتوں کو چھوٹا سمجھ کر ان کو عمل میں نہیں لاتے اس لیے وہی ان کے لیے بڑی ہو جاتی ہیں اور جو کاہل اور سست ہوتے ہیں اور بزدل ہوتے ہیں۔ان کے لیے بظاہر چھوٹی باتیں چھوٹی اور بظا ہر بڑی بڑی ہوتی ہیں۔اس سے معلوم ہو گیا کہ وہی باتیں جو ایک کے لیے چھوٹی ہوتی ہیں۔دوسرے کے لیے بڑی ہو جاتی ہیں۔اور و جو دوسرے کے لیے بڑی ہوتی ہیں۔وہ ایک کے لیے چھوٹی ہوتی ہیں۔جیسا کہ رسول کریم صل اللہ علیہ لم