خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 388

٣٨٨ وہ گر تا ہم چونکہ ہم اس دنیا میں رہتے ہیں۔اس لیے نہیں بھی کئی باتوں میں ان کا شریک ہونا پڑتا ہے مثلاً وبائیں ہیں تقحطہ ہیں۔ان ابتلاؤں میں ایک حد تک ہمیں بھی حصہ لینا پڑتا ہے۔قحط ہے۔اس میں احمدی جماعت بھی مبتلا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ الٹی جماعتوں کو ایسے ابتلاؤں سے بالکل محفوظ رکھا جائے کیونکہ یہ خدا کی مصلحتوں کے خلاف ہوتا ہے۔مگر ایسے ابتلاؤں میں ایک خاص فرق ہوتا ہے جو الٹی جماعت کے لوگوں اور غیروں میں ہوتا ہے کہ غیروں میں اضطراب ہوتا ہے مگر ان ابتلاؤں میں الٹی سلسلہ کے لوگوں کو ایک اطمینان اور تقویت ملتی ہے۔لیکن یہ نہیں ہوتا کہ ان لوگوں کے لیے آسمان سے غلہ اُترنے لگے۔مثلاً عرب میں قحط پڑا۔صحابہ کو بھی اس قحط میں سخت تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں۔مگر ان کے دل قوی تھے۔وہ ان ابتلاؤں کو خدا کے لیے برداشت کرتے تھے۔کیونکہ دیکھتے تھے کہ یہ ابتلاء خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے لیے نشان کے طور پر نازل ہوتے ہیں بس سچی جماعتیں اپنے رنگ میں ان باتوں سے بھی فائدہ اُٹھا لیتی ہیں۔مگر چونکہ یہ موقع تاریخی کا ہوتا ہے اور جو دیکھ کر نہیں چلتا۔وہ ٹھوکر کھاتا ہے۔اس لیے ایسے خطرات کے زمانہ میں ضروری ہے کہ دُعا سے کام لیا جائے۔ایسے وقت میں ایک مومن مومن بھی وہ جو قرآن پر ایمان لاتا ہے۔اور قرآن بھی وہ جو الحمد سے شروع ہوتا ہے۔اسکی مثال تو اس تنبیہ کی سی ہے جس کی جہاں اس کے پاس بیٹھی ہو۔اس کو کیوں اضطراب ہونے لگا۔مصیبت تو اس کے لیے کمر شکن ہوتی ہے جس کو یقین ہو کہ کوئی اس کی مصیبت دور نہیں کر سکتا اور اس کا مددگار نہیں ہے۔مگر ایک مصیبت راحت ہو جاتی ہے۔اور وہ بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے جس کے متعلق یہ جانتے ہوں کہ ہمیں سہارا دینے والا اور ہماری اس آفت میں کام آنے والا ہے۔پس الحمد للہ کہنے والے کے لیے کوئی مصیبت نہیں۔خواہ وہ مالی ہو یا جانی۔یا حکومت کی ہو یا رعایا کی اندر کی ہو یا باہر کی۔کیونکہ وہ یقین کرتا ہے کہ اس مصیبت اس ابتلاء اس دکھ کے دور کر نیوالا ایک خدا ہے جس کی ذرہ ذرہ پر حکومت ہے مصیبت بھیجنا۔ابتلاء نازل کرنا۔العام بخشنا۔یہ سب اس کے قبضہ میں ہیں۔پس الحمد للہ کہنے والے کے لیے کوئی مصیبت نہیں۔کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے لیے دروازہ کھلا ہے جس میں سے وہ نکل سکتا ہے۔مگر کافروں کے لیے دروازہ بند ہوتا ہے۔یہ نہیں کہ ان کے لیے یہ دروازے نہیں ہیں۔مگر وہ ان کو اپنے پر خود بند کر لیتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں سب سامان خدا نے رکھے ہیں۔مگر جو ان کی تحقیق اور تلاش کرتے ہیں وہی پاتے ہیں۔دوسرے ان سے محروم رہتے ہیں۔مثلا کو مین جو انگریزی علاجوں میں