خطبات محمود (جلد 6) — Page 37
علم ہے۔اب یہ نہیں ہو گا کہ ایک ڈاکٹر جو اس علم کے متعلق کوئی کتاب لکھنے لگے۔وہ پہلے ہاتھ کے متعلق لکھے کہ اس میں اتنی ہڈیاں اور اتنی نہیں ہوتی ہیں۔اور اس سے اگلا فقرہ یہ ہو کہ ملیریا میں کونین کھلانی مفید ہوتی ہے۔پھر یہ کہ آنکھیں دکھتی ہوں تو یہ دوائی ڈالنی چاہیئے۔پھر یہ کہ معدہ میں درد ہو تو یہ علاج کرنا چاہیئے۔پھر یہ کہ سر میں اتنی ہڈیاں ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ کوئی ایسا نہیں کرے گا کیونکہ اگر ایسا کیا جائے تو پڑھنے والوں کے ذہن میں یہ باتیں محفوظ نہیں رہ سکتیں۔اس لیے ان کا پہلا کام یہی ہوتا ہے کہ پڑھنے والوں کی آسانی اور سہولت کے لیے اور فائدہ اُٹھانے کی خاطر علم کو مختلف ابواب میں تقسیم کر دیں۔اس کے لیے ایک تو وہ علم تشریح قرار دیں گے، ایک مفردات کے خواص کا باب رکھیں گے۔ایک مرکبات کا حصہ ہو گا۔پھر ایک تشخیص مرض کا باب ہو گا۔دوائی تجویز کرنے اور مریض کے ساتھ سلوک کرنے کا علیحدہ۔پھر ان تمام علوم کے حصے کر دیں گے۔مثلاً تشریح می کہیں انکلی کہیں ناک کہیں کان اور کہیں پیٹ کا ذکر نہیں کریں گے بلکہ اس کے لیے بھی ایک ترتیب قرار دیں گے اور اس کے ماتحت بیان کریں گے۔ہمارے دیسی اطباء نے یہی ترتیب رکھی ہے کہ پہلے سر اور پھر اس کے متعلقہ اجزاء کو لیتے ہیں۔پھر نیچے کے اجزاء کو اسی ترتیب سے لیتے ہیں جو خدا نے رکھی ہیں اور پاؤں تک پہنچتے ہیں یا علمی طور پر ڈاکٹروں کو جو ترتیب پسند آئے وہ رکھ لیتے ہیں۔اسی طرح ادویہ کے متعلق کرتے ہیں۔شاہ پرانے زمانہ میں مفردات کو علاجوں کے لیے تقسیم کر لیتے تھے کہ کان کے علاج کے لیے فلاں اور سرکے لیے فلاں۔ناک کے لیے فلاں۔یہ تو میں نے ایک علم کی مثال ، دی ہے اس کے علاوہ دیکھیو مدارس میں مختلف زبانیں پڑھائی جاتی ہیں ان میں بھی یہی بات مد نظر رکھی جاتی ہے، میشلاً صرف و نحو ہے اس کے متعلق یہ نہیں ہوگا کہ اس کے قواعد کو یونی بکھیر دیا جائیگا کہیں دوب (PPD کا ذکر اور اس کو بیچ میں ہی چھوڑ کر کوئی اور بیان آجائے اور پھر ADVERB کا یا یہ کہ فاعل مفعول حال استثنا- جار وغیرہ کو آپس میں گڈ مڈ کر دیا جائے۔بلکہ ان سب کو علیحدہ علیحدہ بابوں میں اور الگ الگ کر کے بیان کیا جائے گا۔اور کسی کتاب کی خوبی کے لیے یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ آیا اس کے لکھنے والے نے مضمون کو طبعی ترتیب کے مطابق تقسیم بھی کیا ہے یا نہیں۔یہی بات تمام کاموں میں ہوتی ہے۔حتی کہ زمینداروں کو دیکھو۔تو وہ بھی اپنے کاموں کو کئی حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔مثلاً ہل جوتے میں تو یہ نہیں کرتے کہ کچھ ہل ایک جگہ چلائیں اور باقی کھیت چھوڑ کر کچھ دوسری اور پھر تیری۔چوتھی جگہ۔بلکہ وہ حصے تقسیم کرتے ہیں اور ان میں باری باری ہل چلاتے ہیں۔اسی طرح ہونے میں بھی ایک ہیں ترتیب ان کے مد نظر ہوتی ہے اور اس کے چھوڑنے سے بہت سے نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔اسی