خطبات محمود (جلد 6) — Page 35
۳۵ ار آمد اور اہم ہے لیکن اس کی طرف توجہ نہیں کی گئی پی بعض تفصیلات الفاظ کے ذریعہ ادا نہیں ہوسکتیں۔بلکہ پروز کے طور پر آتی ہیں۔مثلاً کوئی شخص کہتا چلا جاتے کہ ناک ایسی ہے کان ایسے میں آنکھ ایسی ہے مگر کوئی چیز ہو سو سمجھ میں نہیں آسکتی۔ہاں فوٹو کے ذریعہ سب کچھ سمجھ میں آجاتا ہے۔قرآن میں ایسے الفاظ کو لیا گیا ہے جو دیکھنے کے ساتھ ہی ظاہرا الفاظ سے کہیں زیادہ دل پیر اثر کرتے ہیں۔اور عجیب حقائق و معارف دل پر ان بعض الفاظ سے کھلتے ہیں یہ بات میں نے حضرت صاحب کے کلام میں بھی دیکھی ہے۔آپ کی کتاب کو پڑھتے ہوئے عجب عالم ہوتا ہے۔آپ کے کلام سے الفاظ کے علاوہ اور معجب کیفیت دل پر طاری ہوتی ہے جو تمام الفاظ کے ذریعہ ظاہر نہیں ہو سکتی۔اسی طرح قرآن مجید کو پڑھتے تو قلب میں ایک خاص حالت پیدا ہو جائے گی۔میں نے حضرت صاحب کی کتاب براہین احمدیہ پڑھی۔میں ہر ایک کتاب کو تھوڑے وقت میں بہت پڑھ سکتا ہوں ، لیکن برا مین احمدیہ کو میں بہت دیر میں بہت ہی تھوڑا پڑھ سکتا تھا۔وجہ یہ کہ ایک ایک سطر پر دل کی حالت اور اسے اور ہوتی جاتی تھی اور نہیں معلوم ہوتا تھا کہ ہجوم مضامین کے باعث میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہوں میں ان الفاظ میں معنی مخفی ہوتے ہیں جو دل پر کھلتے ہیں ان کے پڑھنے کے بھی اُصول ہیں۔غرض تفاصیل میں ایسے حصہ ہیں جن کو الفاظ میں ادا نہیں کیا جاسکتا۔وہ قلبی طور پر حاصل ہوتے ہیں۔بعض دفعہ خاموشی میں ہی وہ حاصل ہوتے ہیں۔تاہم میں نمونہ کے طور پر اعمال و عقائد کے متعلق کچھ بیان کروں گا، لیکن وقت آج بھی نہیں رہا انشاء اللہ اگلے جمعہ میں بیان کروں گا " الفضل ۲۶ فروری شلة )