خطبات محمود (جلد 6) — Page 334
پھر رہبانیت ہے کہ شادی نہ کرنا غسل نہ کرنا۔مال نہ رکھنا، لکن اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ ایک بدعت ہے جس کی پوری نگہداشت ان لوگوں سے نہ ہو سکی لیے اب اسلام میں بھی یہ خیالات آگئے۔اور بعض لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ کوئی کام نہیں کرنا چاہیے نہ تجارت میں ہاتھ ڈالنا چاہیئے۔نہ زراعت میں۔اور بعض نے یہاں تک ترقی کی۔کہ اپنے آلہ تناسل کو بھی کاٹ دیا۔یہ خیال بعض صحابہ کے دل میں بھی پیدا ہو گیا تھا۔چنانچہ ایک صحابی ابوذر غفاری تھے۔ان کو ترک دنیا میں یہاں تک غلو تھا کہ دوسرے صحابہ سے لڑتے پھرا کرتے تھے۔پس یہ اسی زمانہ میں پیدا ہو گیا تھا۔اس لیے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر عیسائیت نے ترک دنیا کی تعلیم دی۔تو مسلمانوں میں اس کا وجود نہیں۔اس میں شک نہیں کہ اسلام کی حفاظت کا خدا کی طرف سے وعدہ ہے چنانچہ قرآن کریم کو خداوند کریم نے محفوظ رکھا ہے لیکن بعد میں اس قسم کی حدیثیں بنائی گئیں۔جن میں ترک دنیا پر زور دیا گیا ہے۔پس وہ مدیں دیتی تعلیم دیتی ہیں جو مسیح کی طرف منسوب کردہ تعلیم کے مطابق میں لیکن یتعلیم خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتی۔باوجود اس کے ہم کہتے ہیں۔ایک حد تک تمام مذاہب میں ترک دنیا کی تعلیم ہے اور وہ یہ ہے کہ جب دین و دنیا کا مقابلہ - آن پڑے۔تو ایک مومن کا فرض ہے اس وقت دنیا کو چھوڑ کر دین کو اختیار کرے۔اسلام یہ نہیں سکھاتا کہ بالکل دنیا کو ترک کر دو۔بلکہ وہ تعلیم دیتا ہے کہ دنیا کماؤ محنت کرو لیکن جب دین ودنیا کا مقابلہ آن پڑے۔اس وقت دین کو مقدم کرو۔اور دنیا کی پروا نہ کرو بلکہ یہاں تک کہتا ہے کہ ہر طبقہ کے لوگ علیحدہ علیحدہ ہوں۔مثلاً کچھ ایسے ہوں۔ہجو زراعت پیشہ ہوں۔بعض لوگ تجارت کریں اور بعض سیاست میں پڑ جائیں۔اور جو علما اور صوفیامہ ہوں۔وہ بالکل دنیا سے علیحدہ ہو کر دین کی خدمت کریں پس یہ بات تمام مذاہب میں ہے۔اور یہاں تک ہونا چاہیئے۔مگر جن مذاہب نے عام طور پر یہ تعلیم دی ہے کہ سب کے سب دُنیا سے قطع تعلق کرلیں۔انہوں نے غلطی کی ہے۔اسلام کی عام تعلیم یہ ہے کہ دین و دنیا کے مقابلہ میں دین کو دنیا پر مقدم کرو، اور اس وقت تمہاری دنیا کی محبت سرد ہو جانی چاہیئے۔اس زمانہ کے مصلح۔نامور اور امام نے اس بات کو شرائط بیعت میں داخل کیا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرو۔پہلے دنیا میں اسقدر ترقی نہیں ہوئی تھی۔نہ پہلے قوموں میں اس قدر میل ملاپ تھا۔نہ تمدن میں اس قدر دوست تھی ز تجارتی تعلقات ایسے قائم تھے اس قدر اجات نہیں اتنا پرانا سا درد پیدا ہوا تھا۔آج دنیا کے دل بہلانے کیلئے ہزاروں سامان نکل آتے ہیں گرا اسوقت کے دل بہلاؤ کے سامان کشتی اور گھوڑے دوڑانے تک محدود تھے اپ کسی قسم کے باجے اور کئی قسم کی کھیلیں پیدا ہوگئی ہیں۔اور ہزاروں تھیڑ قائم ہیں۔اور شب و روز لوگ الحديد ۲۸