خطبات محمود (جلد 6) — Page 33
اگر دو تفصیلی طور پر اپنے اعمال پر نظر ڈالے گا تو وہ معلوم کرلے گا کہ میرے فلاں حصہ ایمان میں کی ہے اور وہ اس کی اصلاح کرے گا۔بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ صیحی تشخیص کے بعد تھوڑی دوائی بھی مرض کو دور کردیتی ہے لیکن عدم تشخیص کی صورت میں ایک بڑی قیمتی دوائی بھی کچھ فائدہ نہیں دیتی۔اسی طرح گو وہ اعمال جن پر ایمان کی کمی محسوس کرتے ہوئے لوگ زور دیتے ہیں۔کتنے ہی مفید اور اعلیٰ درجہ کے کیوں نہ ہوں مگر ان نتائج میں وہ چیز حاصل نہیں ہوگی جس کی کمی انہیں محسوس ہوتی ہے۔ہاں کبھی تو صحیح نتیجہ نکل سکتا ہے، لیکن ہمیشہ نتائج صحیح مرتب نہیں ہو سکتے۔پس اگر ایمان کی تکمیل کی ضرورت ہے تو انسان کو چاہیئے کہ اپنے اعمال کی تفصیل پر نظر کرے۔ہر ایک عمل کو لیکر اللہ تعالیٰ کے احکام کو دیکھے پہلے اپنے ایک عمل کو لے پھر اس کے متعلق قرآن میں دیکھے کہ کیا میر امل قرآن کے حکم کے مطابق ہے یا خلاف ہے پھر دوسرے کسی عمل کو دیکھے۔پھر تیسرے کو دیکھے مثلا نخل ہے۔ایک شخص زکوۃ تو مقررہ دیتا ہے۔نماز روزہ کا بھی پابند ہے مگر اس کا دل مطمئن نہیں ہوگا کیونکہ نبخل جو ہے وہ اس میں پایا جاتا ہے جس کی قرآن پاک مذمت کرتا ہے کیونکہ نخل جو ہے وہ انسان کو منافقت کی طرف لے جاتا ہے یا کوئی اور شخص ہو وہ اور توتمام احکام شرعیہ پر عامل ہو مگر ظلم کرتا ہو تو وہ بھی ایمانی لذت سے محروم رہے گا اور ایمان کا کمال نہیں پیدا کر سکے گا۔اس کو بھی چاہتے کہ وہ اپنے ایمان کا محاسبہ کرے اور دیکھے کہ میرے ایمان میں کوئی کمی ہے۔غرض تفصیلات کے دیکھنے سے انسان میں بصیرت پیدا ہو جاتی ہے جب کوئی انسان اعمال یا عقائد پر تفصیلی نظر کرتا ہے تو اس کو وہ سوراخ نظر آجاتا ہے جس کے باعث اس کا ایمان ناقص ہوتا ہے۔اس وقت وہ اس کی اصلاح کرلیتا ہے۔اس لیے اس تمہید کے بعد میں چاہتا ہوں کہ تفصیلی طور پر ایمان کے متعلق بتلاوں تفصیل دو قسم کی ہے (۱) اعمال میں (۲) عقائد میں۔ان میں سے کسی ایک میں بھی نقص ہو تو عرفان میں نقص ہوگا۔ایمان صرف عقائد صحیحہ کا ہی نام نہیں۔بلکہ اس میں اعمال صالحہ بھی داخل ہیں۔دل میں عقیدہ ہو اور اس عقیدہ کا اظہار ہو اور اس کے مطابق عمل ہو۔یہ ایمان ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے تینوں چیزوں کے مجموعہ کا نام ایمان رکھا ہے۔پس ایمان تب ہی مکمل ہو گا جب یہ تینوں حصے قائم ہوں۔ایسی حالت میں انسان پر خُدا کے عرفان کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور وہ اس میں خدا کے جلال کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس پر ایک مدت وارد کی جاتی ہے۔ممکن ہے بعض لوگوں کو اس طریق سے مستثنی کیا جائے اور خود خدا ان کو اپنی طرف کھینچ ہے مگر