خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 324

تو یہی ہے، لیکن اظہار کی طاقت نہیں۔اعتراض تو ہم پر کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو کا فرکتے ہیں، لیکن عملاً وہ بھی کا فر کتے ہیں۔اگر عربی کا میر نہیں۔تواردو کے امیر ہی ہوتے بمعنی دولتمند، مین یہ بھی نہیں ہیں وہ چند آدمیوں کے ساتھ ہو جانے کے ساتھ امیرالمومنین کیونکر ہو گئے۔ہم امیرالمومنین ہیں۔اور نہیں جماعت کے اکثر حصن امیرالمومنین تسلیم کیا ہوا ہے۔چند لوگ ہیں جو بانی ہو کر جماعت سے علیحدہ ہو گئے ہیں لیکن جو شخص چند کولے کر دعوی امیرالمومنین ہونے کا کرتا ہے۔اس کا دعویٰ غلط اور اس نما یہ کتا بھی غلط کہ سب مسلمان کہلانے والے کا فرنہیں جو لوگ ہماری بیعت میں داخل نہیں۔ہم انہیں کا فرنہیں کہتے جب تک کہ وہ حضرت اقدس کی کھلی کی تحریروں کا انکارنہیں کرتے ہم انہیں بانی کہیں گئے ہیں قریباً تمام جماعت احمدی نے ہمارے ہاتھ پر بیعت کر کے ہمارے امیر المومنین ہونے پر اجماع کر لیا ہے۔وہ لوگ جو ہماری جماعت سے الگ ہیں۔وہ باغی ہیں۔اور ان کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔مَن فَارَقَ الجَمَاعَةَ فَمِيْتَتُهُ جَامِلِيَّةٌ جدھر گشیر جماعت کا حصہ ہے۔دراصل وہی جماعت ہے۔ادھر انہوں نے حضرت اقدس کی نبوت سے انکار کیا اور کہا کیا کوئی شخص نبی نہیں ہوسکتا۔یا اسقدر فراخی کی کہ کہ دیا کہ نبی کہتے ہیں خبردینے والے کو پیس شخص جوکسی قسم کی خبر دیتا ہے۔نبی ہے۔ہر ایک بات جو سلسلہ کے لیے بطور ستون کے تھی اس کو مٹا دینا چاہا۔خدا کے مامور کی ہتک کی گنفر میں ضد کی۔اس کا نتیجہ معلوم کہ سب مسلمانوں کو عملاً کافر کہدیا ، حافظ صاحب مولانا حافظ روشن علی صاحب مراد ہیں۔راقم نے شملہ میں ایک لطیف جواب مولوی محمد علی صاحب کو دیا۔اس پر چونکہ زبانی اور تحریری اعتراض ہوا۔اس لیے میں اسی کے متعلق بیان کرتا ہوں۔بات یہ ہے کہ ان کی طرف سے جب مباحثہ کے لیے عبدالحق اور مرہم میسی جیسے جہلا پیش ہونے لگے۔تو میں نے کہا تم سے مباحثہ نہیں ہو سکتا۔ان کے علمام جہلامہ ہیں۔اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔کہ مسلمان تباہ اس وقت ہوں گے جب ان کے پیشوا جہلا ہوں گے لیے تو ان کے علمامہ مدثر شاہ۔مرہم عیسی عبدالحق ہیں۔جو قرآن کریم کے ایک رکوع کا صیح ترجمہ بھی نہیں کر سکتے۔چونکہ مولوی محمد علی صاحب ہماری ہر ایک بات میں نقل ضروری سمجھتے ہیں۔اور ہم اس سے خوش ہیں۔کیونکہ نقل آدمی اسی بات کی کرتا ہے۔جس کو وہ پسند کرتا ہے۔نه مجمع بحار الانوار جلد ۳ ص ۷۳ له بخاری و مسلم بحواله مشكوة كتاب الفتن فيما تكون فيها الى قيام الساعة