خطبات محمود (جلد 6) — Page 32
ہوگا اور انسان اس کا پتہ لگالے گا اور پھر علاج کرے گا۔اسی طرح ایک ایسا انسان جو اپنے ایمان میں نقص دیکھتا ہے وہ خیرات میں ترقی کرتا ہے اور دس روپیہ کی بجاتے ہیں روپیہ خیرات کرتا ہے لیکن فرض کرو کہ اس کے ایمان میں جو کمی ہے وہ صدر قرنہ دینے کی وجہ سے نہیں بلکہ فرائض میں کوتاہی کے سبب سے ہے تو اس کی کوشش رائیگاں جائے گی یا کسی اور حمل کے ترک کرنے کی وجہ سے ہو مگر وہ فرائض کے ماسوا نوافل اور تہجد کا بھی بہت اہتمام کرتا ہے۔ان اعمال کا نتیجہ کسی اور رنگ میں تو اسے ملے گا مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ اصلی نقص جس کے باعث اسے ایمانی لذت میں کمی ہے وہ دورہ ہو۔وہ اسی طرح رہے گی۔میرے پاس بہت سی شکایات اس قسم کی باہر سے آتی ہیں اور یہاں بھی سنتی ہیں۔میں نے ان سب کوشن کو پسند کیا کہ اس امر کے متعلق بتاؤں کہ ایمان کس طرح کامل ہوتا ہے اور ایمانی سرور اور لذت کس طرح حاصل ہو سکتی ہے۔پس یاد رکھنا چاہیئے کہ رُوحانی امراض میں بھی اسی طرح شفا حاصل ہوتی ہے جس طرح جسمانی امراض سے۔میرے دونوں خطبوں سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ لوگ کس طرح غلطی کھاتے اور نقصان اُٹھاتے ہیں۔دیکھا جاتا ہے کہ اگر ایک شخص اپنے میں خشیت الہی اور تقوی اللہ نہیں پاتا اور اس کو وہ اطمینان حاصل نہیں ہوتا جو ایمان کا نتیجہ ہے تو وہ مثلاً نمازیں زیادہ پڑھنی شروع کرتا ہے، صدقات میں بھی زیادتی کرتا ہے، لیکن ضرورت یہ ہے کہ دیکھا جاتے کہ اصل نقص کیا ہے ؟ نماز روزہ صدقہ خیرات - ان میں ہر ایک ایمان کا جزو ہے۔ان میں سے کسی ایک پر بلا سوچے زور دینا اصل نقص کو دور نہیں کر سکتا مثلا آنکھ میں سرمہ ڈالے اور درد ہو کان میں تو کچھ نتیجہ نہ ہو گا۔یا انگلی میں درد ہو اور زنگ لوشن یا نیلا تھوتھاڈا لے آنکھ میں تو اس کا کچھ بھی فائدہ نہ ہو گا۔ضرورت تو مرض کے مطابق علاج کرنے کی ہے۔ایک عمارت جو اعلیٰ درجہ کی ہو۔اس میں روشن دان نہ ہو منفذ تو ہو مگر شیشے نہ لگائے گئے ہوں جن سے بارش کی بوچھاڑ اور ہوا کے جھونکے رُک سکیں اور صاحب مکان خیال کرے کہ اس مکان کے گر ڈر نہایت عمدہ ہیں۔چھت بھی بہت پختہ ہے پھر ان باد و باراں کے حملوں سے کیوں تکلیف ہوتی ہے تو یہ اس کی غلطی ہے۔کیونکہ اس کمی کی اصلاح گرڈروں وغیرہ کا مضبوط ہونا نہیں کر سکتا ، جو سوراخوں میں شیشے نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔اسی طرح ممکن ہے کہ کوئی شخص نماز میں نہایت چیست ہو۔روزوں میں با قاعدہ ہوا اور صدقہ و خیرات میں نہایت پابند احکام شرع ہو۔تاہم اس کے ایمان میں کچھ کمی ہو جس کو وہ شخص محسوس کرتا ہو۔