خطبات محمود (جلد 6) — Page 261
میں سے گزار رہے ہیں۔ایسے وقت میں ہماری جماعت کے لیے نہایت ضروری کہ پہلے سے زیادہ انابت الی اللہ اختیار کرے اپنی اور تمام جماعت کی حفاظت کے لیے خواہ کہیں ہو۔دعائیں کی جائیں۔اس میں شک نہیں کہ عذاب اور بلائیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انکار کے باعث آرہی ہیں۔مگر اس کا ایک حصہ ہم کو بھی پہنچتا ہے کیونکہ ہم بھی اسی ملک میں رہتے ہیں۔جہاں حضرت مسیح موعود کا انکار کرنے والے رہتے ہیں۔دیکھو کفارِ عرب پر قحط کا عراب آیا۔مگر صحابہ نے بھی اس میں تکلیف اُٹھائی۔پھر اس کی وجہ یہ ہے کہ تاہم اور جوش سے کلمتہ الحق کی تبلیغ کریں۔کیونکہ اس میں پوری کوشش اور سعی سے کام نہ لینے کی وجہ سے خدا تعالیٰ ہماری جماعت کے لوگوں کو ان تکالیف کا مزا چکھاتا ہے جو دنیا پر آگہ ہی ہیں تاکہ لوگوں کی قابل رسم حالت سے آگاہ ہو کہ ہم جلد سے جلد اس نوکر اور خدا کے اس کلام کو جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ نازل ہوا۔دنیا میں پہنچائیں۔چونکہ ان بلاؤں سے ہمیں بھی ایک حد تک حصہ لینا پڑتا ہے۔اس لیے ہماری جماعت کے لیے ضروری ہے کہ اپنے لیے اور اپنے دوسرے بھائیوں کے لیے خدا تعالیٰ کے حضور نہایت تفرع سے دعائیں کرے کہ خدا تعالیٰ سب کو اس قسم کی سختی اور تکلیف سے بچائے جو ایمان کو ضائع کرنے ) الفضل ۲۶ جولائی شاملة ) والی ہو۔آمین : بر