خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 228

کی اشاعت میں کسی نہ کسی طرح کی روک پیدا کی وہ کس طرح تباہ کر دی گئیں۔ایک زمانہ تھا کہ ترکی سلطنت سے تمام کا تمام یورپ لرزتا تھا۔اور اس کے مقابلہ کو آسان نہیں سمجھتا تھا۔کیونکہ یورپ کو خیال تھا کہ ہم نے اگر ترکوں سے جنگ چھیڑی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ساری دنیا کے مسلمان ہمارے خلاف جنگ کے لیے کھڑے ہو جائیں گے اور دنیا میں ایک آگ سہی لگ جائے گی۔ہماری حکومت سرکار برطانیہ بھی اپنی مسلمان رعایا کے خیال سے ترکوں سے جنگ نہیں کرتی تھی۔مگر جب مسیح موعود کو کہا گیا کہ مکہ جاؤ اور دیکھو وہاں تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔تو وہی مسلمان جن کے متعلق یہ خیال تھا کہ اگر ترکوں سے جنگ ہوئی تو ان میں بغاوت پھیل جائے گی۔ان میں بجائے اس کے کہ ترکوں سے جنگ ہونے پر کسی قسم کی شورش پیدا ہوتی۔انھوں نے اپنے ہاتھ سے ترکوں پر گولیاں چلائیں۔اور اب وہ طاقت توڑ دی گئی ہے۔جو اگر کچھ باقی رہ گئی تو ایسی ہوگی۔جو حکومت کہلانے کی مستی نہیں ہوگی۔پھر کابل کی حکومت بھی مسیح موعود کے رستہ میں روک تھی اور وہاں پر نہ صرف یہ کہ احمدیت کی تبلیغ منع تھی بلکہ احمدیت کا اظہار بھی ممنوع تھا۔اور مسیح موعود کو وہاں جانے کا ڈراوا دیا جاتا تھا۔خدا نے اس کے تباہ کرنے کے بھی سامان پیدا کر دیتے۔پس تم بہت یہ خیال کرو کہ تمہارے پاس سامان نہیں اور تم کزور ہو۔کیونکہ جب انسان خدا کی راہ میں کوشش کرتا ہے۔تو اس کے لیے سامان پیدا کر دیئے جاتے ہیں۔دیکھو ابتداء میں حضرت مسیح کے ساتھیوں کی کیسی کمزور حالت تھی حتی کہ ایک بدقسمت نے تھیں کو پے لے کر میسج کو بیچ بھی دیا۔اور جو بہت مقرب تھا اس نے اس خوف سے کہ لوگ اس کو مسیح کا متبع ہونے کے باعث برا بھلا نہ کہیں۔یا کسی اور آفت میں نہ ڈال دیں مجمع عام میں مسیح پر لعنت کی۔باوجود اس کے جس حد تک ان میں اخلاص اور جوش تھا۔خدا نے اس کو ضائع نہیں کیا۔میسج کے خادموں کو حکومت دی۔سلطنت دی اور وہی لوگ جو مسیح کے نام کے دشمن تھے۔خود اس کے نام کی منادی کرنے لگے۔پس ایسے ہی ذرائع سے یہاں کام ہوگا۔ہاں وہ ذریعہ تلوار نہ ہوگی۔بلکہ ان ہوگا اور وہ وقت دور نہیں۔جب بادشاہ حضرت مسیح موعود کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ برکت ڈھونڈھنے والے بادشاہ عیسائی ہوں گے ، یا بدھ ہونگے ، بلکہ وہ بادشاہ حضرت مسیح موعود کو ماننے والے اور احمدی ہی ہونگے اور وہ تبلیغ کے ذریعہ احمدیت میں داخل لے سیودا اسکریوطی دمتی باب ۲۷)