خطبات محمود (جلد 6) — Page 213
طول اور سیر ہو جائیں۔تیرا فضل ہو۔مگر ایسے رنگ میں کہ دماغ میں کبر و غرور نہ بھر جاتے۔احسان ہوں مگر ہم ان سے سیر نہ ہوں۔مگر ہمیں یہ عادت نہ ہو کہ ہم ان العاموں کو حقیر بھکر اور طرف توجہ کریں۔انسانوں میں فرداً فرداً بھی لوگ ہوتے ہیں جو ایک وقت خدا کے فضل کے مستحق ہو کر دوسرے وقت میں اس کے غضب کو بھڑکاتے ہیں۔مگر اقوام کا حال اس بارے میں بالکل نمایاں ہے۔جو قوم آج گری ہوتی ہے۔وہ کل معزز ہے اور کل جو معزز تھی وہ آج ذلیل ہے۔بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ انسانوں میں بہت ملیں گے کہ جنہوں نے خدا سے تعلق پیدا کیا اور آخر تک اس کو نیا ہا۔ان کا قدم صدق کی مضبوط چٹان پر قائم رہا بلکہ ہم کہ سکتےہیں کہ اکثر لوگوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ ان پر کوئی گھڑی نہیں آتی کہ وہ ترقی کی کسی منزل پر ٹھہر گئے ہوں۔بکہ وہ دمیدم تورتی میں ہوتے ہیں لیکن قوموں میں سے کوئی قوم ایسی نہیں ملے گی جو ہمیشہ تحق کو نبھا کی ہو۔بلکہ قومیں جو ایک وقت میں بڑے عروج پر تھیں۔دوسر وقت میں میٹ جاتی رہی ہیں۔یہ ہیں ہوا کہ اقوام ک حالت بحیثیت قوم خدا کی محبت تحقیق کے لحاظ سے اچھی تھی اور وہ مٹ گئی۔بلکہ قومیں ایسی ہی ہوتی ہیں کہ ایک وقت میں ان کی حالت اچھی تھی مگر دوسرے وقت میں وہ بالکل گر گئیں۔یہی وجہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں تمام جمع کے صیغے رکھے ہیں۔امدنی نہیں فرمایا اهد تا فرمایا ہے۔کیونکہ اقوام ہی ہیں جو گر جاتی ہیں اور افراد ہوتے ہیں جو انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں داخل ہو کر مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ یا ضالین میں شامل ہوتے ہیں۔نیوں کی مثال کو جانے دو کہ وہ خاص لوگ ہوتے ہیں۔ان کے علاوہ بھی ایسے افراد بکثرت مل سکتے ہیں جنہوں نے صداقت کو دم آخر تک نہیں چھوڑا۔اور محبت و وفا پر قائم رہے۔ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ) نے رسول کریم صلی الہ علیہ وسم کے ہاتھ پر بیعت کی اور اقرار کیا۔تو اس کے بعد پھر وہ ایک لحمر کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹا۔بلکہ اس کا قدم ہر لحظہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔اسی طرح عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام لانے کے بعد اپنے اخلاص میں کمی نہیں کی۔عثمان و علی۔طلحہ وزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم) نے کمزوری نہیں دکھاتی۔بلکہ ہر روز جو ان پر آتا رہا ہے اس میں وہ پہلے سے زیادہ اخلاص اور جوش پاتے تھے۔ان کے علاوہ اور ہزاروں انسان ملیں گے جو خدا کی راہ میں قائم رہے مگر غور کرو کر دی عرب جو ایک وقت میں منعم ہوتے تھے وہی آج پہلی وحشیانہ حالت کی طرف لوٹ گئے ہیں، وہ ایسے جاہل ہو گئے ہیں کہ جس کی انتہا نہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ مکہ میں ایک عرب نے زندہ بکری کی کھیری کاٹ کر پکا لی۔جب اس کو کہا گیا کہ یہ تو حرام ہے۔کہنے لگا کہ واہ ! زندہ جانور کا گوشت کہاں حرام ہے ؟ پھر اسی مکہ میں جہاں سے اسلام کا چشمہ پھوٹا۔ایسے لوگ بھی ہیں جو